Share this link via
Personality Websites!
لگائے جاتے ہیں *ساس اپنی بہو پر جھوٹے اِلْزامات لگا دیتی ہے *بہو اپنی ساس پر جھوٹے اِلْزامات لگا دیتی ہے، اب خُود کو سچّا ثابت کرنے کے لیے دو چار کو ساتھ مِلا لیا جاتا ہے، پِھر جُھوٹ مُوٹ کی گواہیاں بھی ہوتی ہیں، اپنی جانِب سے چکنی چُپڑی بھی جوڑی جاتی ہیں، رَو دَھو کر بھی سچّا بننے کی کوشش کی جاتی ہے *اسی طرح عزیزوں، رشتے داروں کے ساتھ جو لڑائیاں ہمارے ہاں چلتی ہیں، ان میں بھی جھوٹی گواہیاں دی جاتی ہیں *کبھی مامُوں زاد اور پُھوپھی زاد بھائی آپس میں گٹھ جَوڑ کر لیتے ہیں *کبھی چچا، تایا آپس میں ڈِیل کر لیتے ہیں، جھوٹ بولے جاتے ہیں، اِلْزام تراشیاں ہوتی ہیں اور ایک دوسرے پر خُوب کیچڑ اُچھالے جاتے ہیں۔ یہ سب کچھ ہمارے مُعَاشرے میں ہوتا ہے۔ اللہ پاک نے فرمایا:
وَ لَا تَقْفُ مَا لَیْسَ لَكَ بِهٖ عِلْمٌؕ-اِنَّ السَّمْعَ وَ الْبَصَرَ وَ الْفُؤَادَ كُلُّ اُولٰٓىٕكَ كَانَ عَنْهُ مَسْـٴُـوْلًا (۳۶)
(پارہ:15، سورۂ بنی اسرائیل:36)
تَرجَمۂ کَنزالْعِرفَان: اور اس بات کے پیچھے نہ پڑ جس کا تجھے علم نہیں بیشک کان اور آنکھ اور دِل اِن سب کے بارے میں سوال کیا جائے گا۔
یعنی جھوٹی گواہیاں مت دَو...!! آج جو کہتے ہو: میں نے اپنے کانَوں سے سُنا، اپنی آنکھوں سے دیکھا، سُن لو...!! ان کانوں، ان آنکھوں اور تمہارے دِل سے مُتَعلِّق روزِ قیامت پُوچھا جائے گا۔ اس کا بھی حساب لیا جائے گا۔
اِبْنِ ماجہ شریف کی حدیث ہے، محبوبِ ذیشان صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم نے فرمایا:
لَنْ تَزُولَ قَدَمُ شَاهِدِ الزُّورِ حَتَّى يُوجِبَ الله لَهُ النَّار
ترجمہ: جھوٹے گواہ کے قدم ہٹنے بھی نہ پائیں گے کہ اللہ پاک اس کے لیے جہنّم واجِب فرما
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami