Share this link via
Personality Websites!
ایک مرتبہ رسولِ اکرم، نورِ مُجَسَّم صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم سے کبیرہ گُنَاہوں کے مُتَعلِّق پُوچھا گیا، آپ صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم نے کچھ کبیرہ گُنَاہوں کے مُتَعلِّق بتایا، پِھر فرمایا:
أَلَا أُنَبِّئُكُمْ بِأَكْبَرِ الْكَبَائِرِ؟
ترجمہ: یعنی کیا میں تمہیں بہت بڑے کبیرہ گُنَاہ کے متعلق نہ بتاؤں؟ (پِھر خُود ہی ) فرمایا:
شَهَادَةُ الزُّورِ
ترجمہ: یعنی جُھوٹی گواہی بہت بڑا کبیرہ گُنَاہ ہے۔([1])
اللہ اکبر! پیارے اسلامی بھائیو! اندازہ کیجیے! جھوٹی گواہی کس قدر سخت گُنَاہ ہے۔ افسوس! آج کل جھوٹی گواہی بہت عام ہو چکی ہے، ہم عَدْل کی بات کرتے ہیں، اِنْصاف کی بات کرتے ہیں، آپ غور فرمائیے! جہاں چند ہزار میں اپنی مرضِی کے گواہ مل جاتے ہوں، وہاں عَدْل و اِنْصاف کا مطلب ہی کیا رَہ جاتا ہے؟ ظاہِر ہے فیصلہ کرنے والے نے تو گواہوں کی بات سُن کر فیصلہ کرنا ہے، جب گواہ ہی بِک گئے، چند ہزار میں خرید لیے گئے، اس کے بعد فیصلہ اِنْصاف پر مبنی کیسے ہو سکے گا...؟
اچھا...!! یہ تَو کوٹ کچہری کی باتیں ہیں، ہم اپنے گھروں میں دیکھیں؛ گھروں کے اندر بھی تَو سیاست چلتی ہے *ساس بہو کی لڑائی ہوتی ہے *نند بھاوج کی لڑائی ہوتی ہے *بعض دفعہ چچا تایا کے ساتھ لڑائیاں چل رہی ہوتی ہیں، یہاں بھی تَو جھوٹے الزامات
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami