Share this link via
Personality Websites!
ہر وہ بات جس کا تمہیں عِلْم نہیں ہے، اس کے پیچھے مت پڑو...!!
اِنَّ السَّمْعَ وَ الْبَصَرَ وَ الْفُؤَادَ كُلُّ اُولٰٓىٕكَ كَانَ عَنْهُ مَسْـٴُـوْلًا (۳۶) (پارہ:15، سورۂ بنی اسرائیل:36)
تَرجَمۂ کَنزالْعِرفَان: بیشک کان اور آنکھ اور دل ان سب کے بارے میں سوال کیا جائے گا۔
یعنی تمہارے کان، آنکھ اور دِل ان تینوں کے مُتَعلِّق روزِ قیامت سُوال ہو گا، پُوچھا جائے گا: کانوں سے کیا سُنا؟ آنکھوں سے کیا دیکھا؟ دِل سے کیا جانا؟ کیا مانا؟ لہٰذا اَپنے کانوں، آنکھوں اور دِل، تینوں کی خُوب حفاظت کرو...!!
آیتِ کریمہ کے معانی اور سیکھنے کے سبق
پیارے اسلامی بھائیو! اس آیتِ کریمہ سے ہمیں ایک اُصُول مِل گیا، وہ یہ کہ جس بات کا ہمیں عِلْم نہیں ہے، اس بات کے پیچھے نہیں پڑنا۔ اب یہ اُصُول Apply کہاں کہاں ہو گا...؟ اس تَعلُّق سے عُلَمائے کرام نے آیتِ کریمہ کے مختلف مَعانی اور مَطَالِب بیان کیے ہیں:
پہلا معنیٰ یہ ہے کہ جُھوٹی گواہی مت دَو! *یعنی جو دیکھا نہیں، مت کہو کہ میں نے دیکھا ہے *جو سُنا نہیں ہے، مت کہو کہ میں نے سُنا ہے *جو جانتے نہیں ہو، مت کہو کہ میں جانتا ہوں،([1]) سُورۂ حج میں اِرْشاد ہوتا ہے:
وَ اجْتَنِبُوْا قَوْلَ الزُّوْرِۙ(۳۰) (پارہ:17، سورۂ حج:30)
تَرجَمۂ کَنزالْعِرفَان: اور جھوٹی بات سے اجتناب کرو۔
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami