Share this link via
Personality Websites!
آخر میں ایک بات عرض کروں، ہمیں حکم ہوا ہے:
وَ لَا تَقْفُ مَا لَیْسَ لَكَ بِهٖ عِلْمٌؕ- (پارہ:15، سورۂ بنی اسرائیل:36)
تَرجَمۂ کَنزالْعِرفَان: اور اس بات کے پیچھے نہ پڑ جس کا تجھے علم نہیں۔
اس سے یہ بھی سبق ملتا ہے کہ ہمیں اپنے کام سے کام رکھنا چاہیے۔ بدقسمتی کے ساتھ آج ہماری اکثریَّت اس پاکیزہ وَصْف سے مَحْرُوم ہے *ڈاکٹر نہ ہونے کے باوُجود مریض کو نسخے بتانا *بِن مانگے مشورے دینا *کسی کے گھر جانا ہو تو گھر کی عِمَارت میں، گھر کے ساز وسامان میں، گھر کی سیٹنگ میں بِلااِجازتِ شرعی عیب نکالنا، مثلاً؛ آپ نے گھر ایسے بنایا، یہاں سے یُوں بناتے تو اچھا تھا، یہ ٹیبل یہاں رکھا، وہاں رکھتے تو اچھا لگتا وغیرہ وغیرہ *اسی طرح 4دوست مل کر بیٹھ جائیں تو حکومتوں کے مُعَاملات پر تبصرے شروع کر دیتے ہیں، فلاں حکمران کو یُوں نہیں یُوں کرنا چاہیے تھا، فُلاں وزیر صاحب نے یہ بیان دیا، انہیں وہ بیان دینا چاہیے تھا۔ اس طرح کے معاملات میں بَھلا ہم جیسے عام لوگوں کا کیا واسطہ...!! اس لیے اپنے کام سے کام رکھنا چاہیے۔
صحابئ رسول حضرت ابودرداء رَضِیَ اللہ عنہ فرماتے ہیں:
لَا تُحَاسِبُوا النَّاسَ دُونَ رَبِّهِمْ، اِبْنَ آدَمَ عَلَيْكَ نَفْسَكَ، فَاِنَّهُ مَنْ تَتَبَّعَ مَا يَرَى فِي النَّاسِ يَطُوْلُ حُزْنُهٗ وَلَا يَشْفِ غَيْظُهٗ
ترجمہ: لوگوں کا محاسبہ نہ کرو! ان کا حساب اللہ پاک ہی کے ذِمّے رہنے دو! اے آدم کی اَوْلاد! تم پر اپنی فِکْر لازِم ہے۔ بیشک جو لوگوں کے معاملات کے پیچھے پڑا رہتا ہے، اس کا غم
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami