Share this link via
Personality Websites!
شیطان ہمارے دِماغ کے ساتھ کھیلتا ہے، بچوں کی اَمِّی کے متعلق، دوست احباب کے متعلق، گھر کے افراد کے متعلق خوامخواہ کے وَسْوَسَے ذِہن میں ڈالتا ہے، پِھر ہوتا یہی ہے کہ ہم جس رنگ کی عینک لگا لیں، ہمیں ہر چیز اسی رنگ کی نظر آنے لگتی ہے۔ جب ایک بات دِل میں بٹھا لی کہ فُلاں ایسا ہے تو اس کی ہر بات، ہر عادَت، ہر ادا ہی ویسی لگنا شروع ہو جاتی ہے، پِھر دِل ہی دِل میں بدگمانیوں کا ڈھیر لگتا چلا جاتا ہے اور دِلوں میں دُوریاں آنے لگتی ہیں، غلط فہمیاں پیدا ہونے لگتی ہیں۔
ہمیں اپنی سوچ ہمیشہ مثبت رکھنی چاہیے۔ بدگمانیوں سے، بُری سوچوں سے ہمیشہ ہی بچتے رہنا چاہیے۔ اللہ پاک قرآنِ کریم میں فرماتا ہے:
یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اجْتَنِبُوْا كَثِیْرًا مِّنَ الظَّنِّ٘-اِنَّ بَعْضَ الظَّنِّ اِثْم (پارہ:26، سورۂ حجرات:12)
تَرجَمۂ کَنزالْعِرفَان: اے ایمان والو! بہت زیادہ گمان کرنے سے بچو بیشک کوئی گمان گناہ ہو جاتا ہے۔
پیارے مَحْبوب صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم نے فرمایا:
إيَّاكُمْ وَالظَّنَّ، فإنَّ الظَّنَّ أَكْذَبُ الْحَدِيْثِ
ترجمہ: گمان سے بچو! بیشک گمان سب سے بڑا جھوٹ ہے۔([1])
اللہ پاک ہمیں بدگمانیوں سے محفوظ فرمائے۔اٰمِیْن بِجَاہِ خَاتَمِ النَّبِیّٖن صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَسَلَّم ۔
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami