Share this link via
Personality Websites!
فرمایا: فَهُوَ مَا تُجْزَوْنَ بِهٖ پس یہ اَعْمال کا بدلہ ہی تو ہے۔([1])
پتا چلا؛ ہم پر جو مشکل، پریشانی، مصیبت آتی ہے، اس میں زیادہ تَر ہمارے اَعْمال کار فرما ہوتے ہیں، یہ تَو قسمت اچھی ہے کہ ہم رحمتِ دوجہاں صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم کے اُمّتی ہیں، لہٰذا اِرشاد ہوا:
وَ یَعْفُوْا عَنْ كَثِیْرٍؕ(۳۰) (پارہ:25، سورۂ شوریٰ:30)
تَرجَمۂ کَنزالْعِرفَان: اور بہت کچھ تو وہ معاف فرمادیتا ہے۔
یعنی بہت سارے گُنَاہوں سے تَو اللہ پاک دَر گزر فرما دیتا ہے، ان پر گرفت ہوتی ہی نہیں ہے۔ مثلاً؛ ہم نے100 گُنَاہ کیے، ان میں سے 99 پر گرفت نہ ہوئی، ایک کی وجہ سے تھوڑی مصیبت آ گئی۔
اگر خدانخواستہ 100 کے 100 کی سزا ملتی، تب تَو ہمارا حال ہی نہ جانے کیا ہوتا۔ لہٰذا دوسروں پر اِلْزام لگانے کی بجائے ہمیں خُود کے اعمال کا جائزہ لینا چاہیے، اپنے حالات پر غور کرنا چاہیے۔
رسولِ اکرم، نورِ مُجَسَّم صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم نے فرمایا:
مَنْ قَالَ فِي مُؤْمِنِ مَا لَيْسَ فِيهِ، أَسْكَنَهُ الله فِي رَدْغَةِ الْخَبَالِ حَتَّى يَخْرُجَ مِمَّا قَالَ
ترجمہ: جس نے کسی مسلمان کے بارے میں ایسی بات کہی جو کہ اس میں موجود ہی نہیں (یعنی
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami