Share this link via
Personality Websites!
دیکھے ہیں یہ دن اپنی ہی غفلت کی بدولت
سچ ہے کہ بُرے کام کا اَنجام بُرا ہے
*فجر پڑھی نہیں جاتی *جھوٹ خُوب بولے جاتے ہیں *ناپ تَول میں کمی کی جاتی ہے *بدگمانیاں الزام تراشیاں خوب ہوتی ہیں *صدقہ وخیرات کی عادت ہی نہیں ہے *فلمیں، ڈرامے گھر میں ہر وقت چلتے رہتے ہیں *غُصّہ اپنا کنٹرول میں نہیں رہتا ۔ غرض قصور اپنے ہیں اور اِلْزام کبھی خالہ پر تو کبھی پھپھو پر، کبھی پڑوسیوں پر....!!
غم اور پریشانیاں کیوں آتی ہیں؟
اللہ پاک قرآنِ کریم میں فرماتا ہے:
مَنْ یَّعْمَلْ سُوْٓءًا یُّجْزَ بِهٖۙ- (پارہ:5، سورۂ نساء:123)
تَرجَمۂ کَنزالْعِرفَان: جو کوئی برائی کرے گا اُسے اُس کا بدلہ دیا جائے گا۔
یعنی جو بُرائی کرے گا، وہ اس کا بدلہ پائے گا چاہے دُنیا میں پائے، چاہے آخرت میں۔([1]) ایک مرتبہ مسلمانوں کے پہلے خلیفہ حضرت ابوبکر صِدِّیق رَضِیَ اللہ عنہ نے بارگاہِ رِسالت میں اِسی آیت سے مُتَعلِّق سُوال کیا، پُوچھا: یارسولَ اللہ صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم ! کیا ہمارے ہر عَمَل کا بدلہ دیا جائے گا؟ فرمایا: غَفَرَ الله لَكَ يَا اَبَا بَكْرٍ اے ابو بکر! الله پاک تیری بخشش فرمائے، اَلَسْتَ تَمْرَضُ؟ اَلَسْتَ تَنْصِبُ؟ اَلَسْتَ تَحْزَنُ؟ اَلَسْتَ تُصِيْبُكَ اللَّاْوَاءُ؟ یعنی کیا لوگ بیمار نہیں ہوتے؟ کیا انہیں رنج نہیں پہنچتا؟ کیا وہ غمگین نہیں ہوتے؟ کیا پریشانیاں نہیں آتیں؟ عرض کیا: کیوں نہیں...؟ یہ سب کچھ ہی ہوتا ہے۔
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami