Share this link via
Personality Websites!
ایک مقام پر فرمایا:
اَلْوَلَایَةُ لِلّٰهِ الْحَقِّؕ- (پارہ:15، سورۂ کہف:44)
تَرجَمۂ کَنزالْعِرفَان: تمام اختیار سچے اللہ کا ہے۔
جب ہم مانتے ہیں، یقین رکھتے ہیں کہ اللہ پاک کی مرضِی کے بغیر کچھ نہیں ہو سکتا تو خوامخواہ خالہ، پھپھو، چچا، تایا پر اِلْزام لگانے کی کیا ضرورت ہے...؟
اَصْل میں بات کیا ہے؟ جس کی طرف ہم تَوَجُّہ نہیں کرتے...!! ہمارے ہاں یہ ایک عام نفسیاتی مسئلہ ہے، ہم اپنی غلطی دوسروں کے سَر ڈالتے ہیں، آپ پُورا قرآنِ کریم پڑھیے! کہیں اِرْشاد نہیں ہوا کہ تمہارے اُوپر جو مصیبت آئی، تم بیمار ہوئے، سَر درد ہوا، کاروبار میں نقصان ہوا، گھر کا سُکون خراب ہو گیا، اس کا سبب فُلاں بن فُلاں ہے، یہ کہیں نہیں فرمایا گیا، ہاں! یہ اِرْشاد قرآنِ کریم میں موجود ہے:
وَ مَاۤ اَصَابَكُمْ مِّنْ مُّصِیْبَةٍ فَبِمَا كَسَبَتْ اَیْدِیْكُم (پارہ:25، سورۂ شوریٰ:30)
تَرجَمۂ کَنزالْعِرفَان: اور تمہیں جو مصیبت پہنچی وہ تمہارے ہاتھوں کے کمائے ہوئے اعمال کی وجہ سے ہے۔
پتا چلا؛ جو بھی مصیبت آئی ہے، یہ دوسروں کی وجہ سے نہیں بلکہ اپنے ہاتھوں کی کمائی ہوئی ہے۔
جو کچھ بھی ہیں، سب اپنے ہی ہاتھوں کے ہیں کرتُوت
شکوہ ہے زمانے کا نہ قسمت کا گلہ ہے
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami