Share this link via
Personality Websites!
*نوکری سے فارغ ہوگئے تو دفتر کے کسی فَرْد سے بدگمانی *کاروبار میں نُقصان ہو گیا تو قریبی دکانداروں پر اِلْزام *گھر میں سُکون نہیں رہا، لڑائی جھگڑے ہو رہے ہیں، فورًا اِلْزام: فُلاں رَوْز فُلاں آیا تھا، اس دِن سے ہی گھر کا سکون برباد ہے *جب سے پھپھو آئی تھی، تب سے کچھ ہو گیا ہے *جب سے خالہ آئی تھی، تب سے ہی کچھ ہو گیا ہے۔ پِھر جب یہ ذِہن بنا لیتے ہیں تو رات کو کپڑوں پر چھینٹے بھی پڑنے لگ جاتے ہیں، الماری کے نیچے سے تعویذ بھی نکل آتا ہے اور بدگمانیاں، الزام تراشیاں، غیبتیں شروع ہو جاتی ہیں۔
پیارے اسلامی بھائیو! کیوں خوامخواہ ڈپریشن بڑھاتے ہیں، جس بات کا ہمیں عِلْم ہی نہیں، اس کے پیچھے کیوں پڑنا...؟ میں یہ نہیں کہتا کہ جادُو کوئی چیز نہیں ہے، نظرِ بد سے کچھ ہوتا ہی نہیں ہے، جادُو، تعویذ، نظر ان سب کے اَثرات ہوتے ہیں مگر سارا کچھ تَو ان پر نہیں ڈالنا چاہیے نا؛ مَعْمُوْلی سَر دَرْد ہوا اَور جادُو کا ذِہن بنا لیا، 2، 4 دِن بِکْری(sale) کم ہو گئی، کاروبار میں کوئی نقصان ہو گیا تو فورًا ذِہن بنا لیا کہ جادُو ہو گیا ہے، یہ انداز بھی تَو درست نہیں ہے نا۔
ہمیں کیا لگتا ہے؛ اللہ پاک نے ہماری قسمت ہماری پھپھو، خالہ، چچا، تایا، پڑوسی وغیرہ کے ہاتھ میں دے دِی ہے...؟ اللہ پاک نے یہ دُنیا بنائی اور مَعَاذَ اللہ! اس کا نِظام میرے رشتے داروں کے ہاتھ دے دیا (لَاحَوْلَ وَلَاقُوَّۃَ اِلّا بِاللہ!) میں یہ صِرْف چوٹ کرنے کے لیے عرض کر رہا ہوں۔ حکم تَو اللہ پاک ہی کا چلتا ہے، اس کی مرضِی کے بِنَا پتّا بھی نہیں ہِل سکتا:
اِنِ الْحُكْمُ اِلَّا لِلّٰهِؕ- (پارہ:13، سورۂ یُوسُف:67)
تَرجَمۂ کَنزالْعِرفَان: حکم تو اللہ ہی کا چلتا ہے۔
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami