Share this link via
Personality Websites!
اِزالہ کیا اور کیسا اِزالہ کیا؛ سارا دِن مدینۂ مُنَوَّرہ کی گلیوں میں صدائیں لگاتے رہے کہ کوئی ہے جو اس خاتون کے متعلق بتائے (تاکہ میں اسے دُرُست مسئلہ بتا سکوں)۔ سُبْحٰنَ اللہ!صحابۂ کرام علیہمُ الرّضوان کی ادائیں نِرالی ہی ہیں۔
اُس دَور میں ظاہِر ہے آپس میں باہم رابطوں کے ایسے ذرائع نہیں تھے جیسے آج ہیں *آج کل تو فیس بُک *یوٹیوب *واٹس ایپ*انسٹا گرام نہ جانے کیا کیا ایجاد ہو گیا اور ساتھ ہی بے احتیاطی بھی بڑھ گئی *لوگ غلط مسئلے شیئر کرتے رہتے ہیں *میسجز چلا دیتے ہیں *دِینی مَعْلُومات تو ہوتی نہیں ہیں، بَس کوئی میسج آیا، کوئی پوسٹ آئی، اچھی لگی اور آگے بڑھا دی، ایک بٹن دبانے کی دیر ہے، ایک دو نہیں، سینکڑوں، ہزاروں بلکہ لاکھوں تک وہ غلطی پہنچ جاتی ہے۔اب اس کا اِزالہ کون کرے؟دِینی معلومات ہوں گی تو پتا چلے گا کہ میں نے غلط مسئلہ شیئر کر دیا ہے۔
بہر حال! جس نے فیس بُک پر، یوٹیوب پر، انسٹاگرام یا واٹس ایپ(WhatsApp) وغیرہ پر غلط مسئلہ پوسٹ کر دیا تو اسے چاہیے کہ فوراً اس کا اِزالہ کرے، مثلاً کوئی ایسی تحریر بنائے کہ فُلاں روز میں نے فُلاں پوسٹ کی تھی، اس میں یہ بات غلط تھی، دُرست یہ ہے، لہٰذا میں اپنی غلطی سے تَوْبَہ اور رُجوع کرتا ہوں۔
اور اس سب کا بہترین حل یہ ہے کہ جو کچھ بھی شیئر کرنا ہو عُلَمائے کرام سے تصدیق کروا کر شیئر کیا کریں اور ایک بہت آسان حل یہ ہے کہ دعوتِ اسلامی کی ویب سائٹ www.dawateislami.net پر Gallery کے نام سے ایک آپشن ہے، اس میں مفتیانِ کرام سے چیک شُدہ اسلامی پوسٹیں موجود ہیں، وہاں سے پوسٹیں ڈاؤن لوڈ کر کے وہ شیئر
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami