Share this link via
Personality Websites!
ایک عورت نے رات مجھ سے مسئلہ پوچھا تھا، کوئی بتا سکتا ہے کہ وہ عورت کون ہے؟ آپ سارا دِن اسی طرح صدائیں لگاتے رہے، یہاں تک کہ جب رات ہوئی تو وہ عَوْرت کل والی جگہ پر کھڑی تھی، آپ رَضِیَ اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں نے اُسے پیارے آقا، مدینے والے مصطفےٰ صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم کا فرمان سُنایا اور بتایا کہ بے شک تمہارے لیے تَوْبَہ ہے (یعنی اللہ پاک بڑا غفَّار ہے، تم تَوْبَہ کرو تو اللہ پاک قبول فرمائے گا)۔ یہ سُنتے ہی خاتون خُوش ہو گئی اور مارے خوشی کے اس نے کہا: میرا ایک باغ ہے، میں اپنے گُنَاہ کے کفّارے میں وہ باغ راہِ خُدا میں صدقہ کرتی ہوں۔([1])
دردِ دِل کر مجھے عطا یاربّ! دے مرے دَرد کی دَوا یاربّ!
لاج رکھ لے گنہگاروں کی نام رحمٰن ہے ترا یاربّ!
عیب میرے نہ کھول محشر میں نام ستّار ہے ترا یاربّ!
بے سبب بخش دے نہ پوچھ عمل نام غفّار ہے ترا یاربّ!([2])
پیارے اسلامی بھائیو! اس روایت سے ہمیں بہت ساری باتیں سیکھنے کو ملتی ہیں، مثلاً؛ (1):ایک بات یہ پتا چلی کہ ہمیں کبھی بھی بغیر عِلْم کے اپنی طرف سے شرعی مسئلہ نہیں بتانا چاہیے، جو بغیر عِلْم کے دِینی مسئلے بتاتا ہے وہ خُود بھی ہلاک ہوتا ہے اور دوسروں کو بھی ہلاکت میں ڈالتا ہے (2):دوسر ی بات یہ مَعْلُوم ہوئی کہ اگر خُدانخواستہ کوئی کسی کو غلط مسئلہ بتا بیٹھے یا کبھی دُرست مسئلہ بتاتے بتاتے کوئی غلطی کر بیٹھے تو اسے چاہیے کہ اس کا اِزالہ کرے، دیکھیے!حضرت ابو ہریرہ رَضِیَ اللہ عنہ کو جب دُرُست مسئلے کا عِلْم ہوا تو آپ نے اس کا
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami