Share this link via
Personality Websites!
نہیں ہیں، اُن کی عموماً اس جانِب توجُّہ بھی نہیں جاتی، واش رُوم کے بعد ہاتھ تو دھو ہی لیتے ہیں مگر پاؤں ناپاک کے ناپاک رِہ جاتے ہیں*بلکہ اب تو کھڑے ہو کر پیشاب کرنے کا رجحان بڑھ رہا ہے، بالخصوص ائیر پورٹ (Airport) اور دیگر کئی مقامات پر کھڑے ہو کر پیشاب کرنے کا مخصوص انتظام ہوتا ہے، اس صُورت میں بھی بدن اور کپڑوں کو پیشاب کی ناپاک چھینٹوں سے بچانا سخت دُشْوار کام ہے۔ یاد رکھئے! خُود کو پیشاب کی چھینٹوں سے نہ بچانا سخت گُنَاہ ہے۔ غیب جاننے والے نبی، رسولِ ہاشمی صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم نے فرمایا: پیشاب سے بچو! عام طَور پر عذابِ قبر اسی وجہ سے ہوتا ہے۔([1])
حضرت قتادہ رَضِیَ اللہ عنہ فرماتے ہیں: ہمیں بتایا گیا ہے کہ عذابِ قبر کو 3 حِصَّوں میں تقسیم کیا گیا ہے (1):ایک تہائی عذاب غیبت کی وجہ سے (2):ایک تہائی عذاب چغلی کی وجہ سے (3): اور ایک تہائی عذاب پیشاب (کی چھینٹوں سے خود کو نہ بچانے) کی وجہ سے ہوتا ہے۔([2])
ایک مرتبہ خلیفہ عبد الملک کے پاس ایک شخص آیا جو کفن چرایا کرتا تھا، اس نے خلیفہ کو ایسی 5قبروں کے احوال بیان کئے جنہوں نے اس کو توبہ پر آمادہ کیا۔ اُن میں سے ایک قبر کا حال بیان کرتے ہوئے اُس نے کہا: ایک بار میں نے ایک قَبْر کھودی تواس میں ایک بھیانک منظر تھا۔ مردہ گُدّی کی طرف زَبان نکالے ہوئے تھا اوراس کے جسم میں آگ کی کیلیں ٹھکی ہوئی
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami