Share this link via
Personality Websites!
پھنس گئے تو بہت دُشواری ہو جائے گی، آج ہم زندہ ہیں، ابھی موقع ہے، چاہئے کہ ہم عذابِ قبر سے پناہ مانگا کریں، حضرت جابِر رَضِیَ اللہ عنہ سے روایت ہے، ایک مرتبہ سرکارِ عالی وقار، مکی مَدَنی تاجدار صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم ایک باغ میں تشریف لائے،وہاں زمانۂ جاہلیت میں مرنے والوں کی کچھ قبریں بھی تھیں، آپ صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم نے جب اُن قبروں میں ہونے والے عذاب کی آوازیں سُنیں تو بےچین ہو کر باہَر تشریف لائے اور فرمایا: اِسْتَعِیْذُوْا بِاللهِ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ اللہ پاک کی بارگاہ میں عذابِ قبر سے پناہ مانگو...!! ([1])
آئیے !حکمِ مصطفےٰ صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم پر عمل کی نیّت سے پناہ مانگتے ہیں:
نَعَوْذُ بِاللہ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ (ہم عذابِ قبر سے اللہ پاک کی پناہ مانگتے ہیں)
پیارے اسلامی بھائیو! ہمیں چاہئے کہ ہم عذابِ قبر سے پناہ بھی مانگتے رہیں، پِھر اس کے ساتھ ساتھ اُن گُنَاہوں سے بھی بچتے رہیں جو عذابِ قبر کا سبب بنتے ہیں۔ آئیے! ایسے چند گُنَاہوں کے بارے میں سنتے ہیں:
پیارے اسلامی بھائیو! بیان کے شروع میں ہم نے جو حدیثِ پاک سُنی، اس حدیث شریف سے ہمیں پتا چلا کہ غیبت کرنا اور پیشاب کے چھینٹوں سے نہ بچنا بہت ہی خطرناک گُنَاہ ہیں۔ انہی گُنَاہوں کے سبب ان مُردَوں کو عذاب ہو رہا تھا اور ییارے آقا، مکی مَدَنی مصطفےٰ صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم نے ان کے بارے میں فرمایا: مَا یُعَذِّبَانِ فِیْ کَبِیْرٍ یعنی انہیں عذاب کسی ایسے گُنَاہ کے سبب نہیں ہو رہا ، جن سے بچنا بہت دُشْوار ہے۔
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami