Share this link via
Personality Websites!
اَوَّل تو دیکھیے! اَوْراد و وَظَائِف میں اَثَر ہمارے یقین سے آتا ہے، ہمارا یقین جتنا پختہ ہو گا، وظیفہ اتنا زیادہ اور اُتنا جلدی اَثَر کرے گا۔ دُوسرے نمبر پر یہ بات یاد رکھیے! غیب کا عِلْم اللہ پاک جانتا ہے، ہمارے اُوپَر پتا نہیں کون کون سی مصیبت آنے والی ہو گی، جو وظیفے کی برکت سے ٹَل چکی ہو گی، ہمیں اس کی خبر ہی نہیں ہے۔ ممکن ہے: *ہارٹ اٹیک آنا تھا مگر وظیفے کی برکت سے پٹھے کی دَرْد پر بات ٹَل گئی *ممکن ہے: دُکان میں آگ لگنی تھی مگر وظیفے کی برکت سے بِکْری کم ہونے پر بات ٹَل گئی *کتنی مرتبہ ہوتا ہے: ہم سڑک سے گزر رہے ہوتے ہیں، ہمارے پاس سے گاڑی شَاں کر کے گزر جاتی ہے۔ ہم ٹھنڈی سانس لیتے ہیں: شکر ہے بچ گیا *ہماری گلی میں، ہمارے ہی محلے میں چَورِی ہو جاتی ہے، ہمارے گھر کچھ نہیں ہوتا *ایک ہی گاڑی میں 4لوگ بیٹھے ہوتے ہیں، ایکسیڈنٹ ہوتا ہے، ایک مَر جاتا ہے، دو زخمی ہو جاتے ہیں اور ایک کو کچھ بھی نہیں ہوتا۔ ممکن ہے: ہماری کوئی نیکی ہی ہمیں کام آ رہی ہو۔
اِس لیے ہمیں یقین پکّا رکھنا چاہیے اور کچھ نہ کچھ اَوْراد و وَظائِف کرتے رہنا چاہیے۔
پیارے اسلامی بھائیو! روحانی عِلاج وہاں بھی کام کرتے ہیں، جہاں ظاہِری اَسْباب کام نہیں کر سکتے۔ بہت دفعہ ایسا ہوتا ہے، ہمیں سب دروازے بند نظر آتے ہیں، پریشانیاں ہی پریشانیاں گھیر لیتی ہیں، کہتے ہیں نا: سونے کو ہاتھ لگاؤں تو مٹی بنتا ہے۔ یعنی قسمت میں پھیر آ گئے ہیں، نعمتیں بھی مصیبت میں بدلنا شروع ہو گئی ہیں۔ یہ وہ موقع ہوتا ہے کہ کوئی راہ نظر نہیں آتی، روحانی عِلاج ایسے موقع پر بھی کام کر جاتے ہیں۔ حدیثِ پاک میں بیان
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami