Share this link via
Personality Websites!
بہت لمبی دُعا ہے، ہمیں پڑھنی چاہیے۔
خیر! حَجّاج بن یُوسُف نے کچھ مزید باتیں کیں، بالآخر بہت اَدب سے کہا: اے اَنس! آپ گھر تشریف لے جائیے! آپ واپس تشریف لے گئے۔ ایک خادِم کہنے لگا: اے حَجّاج! تم تو کتنے دِنوں سے انتظار کر رہے تھے کہ کب اَنَس بن مالِک ہاتھ آئیں گے۔ آج جب وہ سامنے تھے، موقع بھی تھا، تم نے انہیں یُونہی جانے دے دیا...؟ حَجّاج بولا: اللہ کی قسم! میں نے ان کے کندھے پر 2شیر دیکھے، جب بھی ان سے گفتگو کرتا تھا، وہ شیر میری طرف لپکتے تھے، اس لیے میں نے انہیں نہیں چھوڑا بلکہ اپنی جان بچائی ہے۔([1])
کیونکر نہ میرے کام بنیں غیب سے حَسَؔن بندہ بھی ہوں تَو کیسے بڑے کارساز کا([2])
سُبْحٰنَ اللہ!پتا چلا؛ یقین پکّا ہو، بندہ اللہ پاک کے نام پُکارے، پیارے آقا، مکی مَدَنی مصطفےٰ صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم کی بتائی ہوئی دُعائیں پڑھتا رہے، وِرْد وظیفے کرتا رہے، اللہ پاک نے چاہا تو آئی مصیبت خُود بخود ٹَل جاتی ہے۔
اب یہاں ایک اَہَم وضاحت ہے جو میں کر دینا چاہتا ہوں، بعض دفعہ ذِہنوں میں سُوال اُٹھتے ہیں؛ جو لوگ وِرْد وظیفے کرتے ہیں، درودِ پاک پڑھتے رہتے ہیں، اُن کے ذِہنوں میں شیطان وسوسہ ڈالتا ہےکہ میں تَو وظیفہ بھی پڑھتا ہوں، لیکن بیمار تو پِھر بھی ہو گیا، پریشانی تو پِھر بھی آگئی۔
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami