Share this link via
Personality Websites!
سے مَحْفُوظ رہے گا۔
روایت ہے: حَجّاج بن یُوسُف اپنے وقت کا بہت ظالِم حکمران تھا۔ اُس بدبخت نے کئی صحابۂ کرام علیہمُ الرّضوان کو شہید کیا۔ بہت ظُلْم ڈھائے۔ حضرت اَنَس بن مالِک رَضِیَ اللہ عنہ صحابئ رسول ہیں، حَجّاج بن یُوسُف کئی دِن تک انتظار کرتا رہا، بےچین تھا کہ کب اَنَس بن مالِک میرے قابُو میں آئیں اور میں انہیں شہید کردُوں۔
آخر ایک مرتبہ اُس کی بُری تمنا پُوری ہو ہی گئی۔ حَجّاج بن یُوسُف نے سپاہی بھیجے، وہ حضرت اَنَس بن مالِک رَضِیَ اللہ عنہ کو گرفتار کر کے لے آئے۔ اب حضرت اَنَس بن مالِک رَضِیَ اللہ عنہ حَجّاج بن یُوسُف کے سامنے تھے۔ حَجّاج بولا: اَنس! کیا جانتے ہو میں نے تمہیں کیوں بُلایا ہے؟ فرمایا: نہیں جانتا۔ بولا: میں آپ کو بُری طرح سے قتل کرنا چاہتا ہوں۔ فرمایا: تم ایسا نہیں کرسکتے۔
یقین کی بات دیکھیے! حَجّاج بن یُوسُف ظالِم ترین حکمران، ننگی تلوار لیے سامنے کھڑا ہے، دربار بھی اُس کا، آس پاس سپاہی بھی اُس کے، وہ قتل کی دھمکی بھی دے رہا ہے۔ اس کے باوُجُود حضرت اَنس رَضِیَ اللہ عنہ پُورے یقین کے ساتھ فرما رہے ہیں: تُو مجھے ہر گز قتل نہیں کر سکتا...!!
بولا: آخر کیوں...؟ کیا رُکاوٹ ہے؟ فرمایا: مجھے مَحْبوبِ ذیشان صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم نے ایک دُعا سکھائی تھی، میں وہ دُعا پڑھ چکا ہوں، لہٰذا تُو ہر گز مجھے نقصان نہیں پہنچا سکتا۔
پیارے اسلامی بھائیو! یہ بڑی پیاری دُعا ہے، اسے دُعائے اَنَس بن مالِک کہتے ہیں۔
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami