Share this link via
Personality Websites!
صاحِب کا آتا ہے *روپے پیسے کا مسئلہ ہو گیا تو سب سے پہلے دوست اَحباب یاد آتے ہیں۔
میں یہ نہیں کہتا کہ ڈاکٹرز کے پاس جانا بُرا ہے، وکیلوں سے ملنا غلط ہے، ظاہِری اسباب اپنانے ہی نہیں چاہئیں۔ نہیں...!! ایسا ہر گز نہیں ہے۔ یہ دُنیا دارُ الْاَسْباب ہے (یہاں جو کچھ ہوتا ہے، اَسْباب کے تحت ہی ہوتا ہے)، یہاں اسباب اپنانے ہی ہوں گے، البتہ! ہم مسلمان ہیں، ہماری پہلی تَوَجُّہ اللہ پاک کی جانِب ہونی چاہیے، ظاہِری اسباب کے ساتھ ساتھ ہمیں چاہیے کہ ہم اَوراد و وَظائِف بھی کریں، بیماریوں، پریشانیوں، دُکھ اور تکلیفوں کے روحانی عِلاج بھی کیا کریں، اِنْ شَآءَ اللہ الْکَرِیْم! برکتیں نصیب ہوں گی۔
اللہ پاک قرآنِ کریم میں فرماتا ہے:
وَ نُنَزِّلُ مِنَ الْقُرْاٰنِ مَا هُوَ شِفَآءٌ وَّ رَحْمَةٌ لِّلْمُؤْمِنِیْنَۙ- (پارہ:15، سورۂ بنی اسرائیل:82)
تَرْجمۂ کَنْزُالعِرْفان:اور ہم قرآن میں وہ چیز اُتارتے ہیں جو اِیمان والوں کے لیے شفا اور رَحمت ہے ۔
ایک مقام پر فرمایا:
قُلْ هُوَ لِلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا هُدًى وَّ شِفَآءٌؕ- (پارہ:24، سورۂ حم سجدہ:44)
تَرْجمۂ کَنْزُالعِرْفان:تم فرماؤ: وہ ایمان والوں کے لیے ہدایت اور شفا ہے۔
حضرت عبد اللہ بن عباس رَضِیَ اللہ عنہ ما نے فرمایا: قرآن کریم ہرمرض سے نجات دینے والاہے۔([1])
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami