Share this link via
Personality Websites!
قَالَ اللہ تَبَارَکَ وَ تَعَالٰی فِی الْقُرْآنِ الْکَرِیْم(اللہ پاک قرآنِ کریم میں فرماتا ہے):
وَ نُنَزِّلُ مِنَ الْقُرْاٰنِ مَا هُوَ شِفَآءٌ وَّ رَحْمَةٌ لِّلْمُؤْمِنِیْنَۙ- (پارہ:15، سورۂ بنی اسرائیل:82)
صَدَقَ اللہ الْعَظِیْم وَ صَدَقَ رَسُوْلُہُ النَّبِیُّ الْکَرِیْم صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَسَلَّم
تَرْجمۂ کَنْزُالعِرْفان:اور ہم قرآن میں وہ چیز اتارتے ہیں جو ایمان والوں کے لیے شفا اَور رَحْمت ہے ۔
صَلُّوا عَلَی الْحَبیب! صَلَّی اللّٰہُ عَلٰی مُحَمَّد
پیارے اسلامی بھائیو! نشیب و فراز(یعنی دُکھ پریشانیاں) زِندگی کا حصّہ ہیں *ہم بیمار بھی ہوتے ہیں، شفا بھی ملتی ہے *پریشان بھی ہوتے ہیں، خوشیاں بھی نصیب ہوتی ہیں *زِندگی کے سَفَر میں مشکلات بھی آتی ہیں، آسانیاں بھی ملتی رہتی ہیں۔ اُمّتِ مسلمہ کی 1500 سالہ ایک روایت ہے، جسے اب ہم کافی حَدْ تک فراموش کرتے چلے جا رہے ہیں، وہ رِوایت ہے: دُکھ، دَرْد، پریشانیوں اور مصیبتوں میں اللہ پاک کے ساتھ لَو لگانا، وِرْد وظیفے اور رَوحانی عِلاج اپنانا۔
پیارے آقا، مکی مَدَنی مصطفےٰ صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم کی سیرتِ پاک سے شروع ہوں، پچھلی صدی تک اپنی تاریخ دیکھیں، وِرْد وَظیفے، دَمْ، درود، روحانی عِلاج مسلمانوں کی عمومی عادات کا حصّہ تھے، اب یہ عادَت بالکل خَتم تو اَلحمدُ للہ! نہیں ہوئی، البتہ! اس جانِب سے تَوَجُّہ کافِی کم ہو گئی ہے۔ ہماری زیادہ تَر تَوَجُّہ ظاہِری اسباب کی طرف ہونے لگی ہے *بیمار ہوئے تو پہلی نگاہ ڈاکٹر کی جانِب اُٹھتی ہے *کوئی قانونی مسئلہ ہو گیا تو پہلا خیال وکیل
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami