Share this link via
Personality Websites!
رکھنا۔ اگر شک و شبہ ہوا تو وظیفہ یا عمل میں اثر نہ رہے گا۔([1])
ان 7 شرائط کےعلاوہ اعمال ووظائف کے کچھ ضروری آداب بھی ہیں۔ ہر عمل کرنے والے پر لازم ہے کہ وہ ان آداب کا بھی خیال و لحاظ رکھے، ورنہ دُعاؤں اور وظیفوں کی تاثیرات میں کمی ہو سکتی ہے:
(1):ہرعمل یاوظیفہ کرتےوقت نہایت ہی خشوع و خضوع کےساتھ اللہ پاک کی بارگاہ میں عاجزی و نیاز مندی کااظہار کرے (2):ہر عمل اور وظیفہ شروع کرنے سے پہلے کچھ صدقہ و خیرات کرے (3):ہرعمل ہر وظیفہ کے اوّل و آخر درودِ پاک کا وِرد کرے (4):وظیفوں کےبعدجب اپنےمقصد کے لیے دعا مانگے تو ایک ہی مرتبہ دعا مانگ کر بس نہ کر دے بلکہ بار بار گِڑگِڑا کر اللہ پاک سے دعا مانگے(5):جہاں تک ہو سکے ہر دعا اور وظیفہ وغیرہ عملیات کو تنہائی میں پڑھےجہاں نہ کسی کی آمدو رفت ہو نہ کسی کی کوئی آواز آئے(6):کسی مسلمان کو نقصان پہنچانے کے لیے ہر گز ہرگز نہ کوئی عمل کرے نہ کوئی وظیفہ پڑھے (7):جب کوئی عمل کرےیاوظیفہ پڑھےتواس دوران بہت کم کھائے اورسادہ غذا کھائے پیٹ بھرکر نہ کھائے کیونکہ پیٹ بھرے لوگ دعاؤں کی تاثیر سے اکثر محروم رہتے ہیں (8):وظائف پڑھنے کے دوران بدن اورکپڑوں کی پاکی اورصفائی ستھرائی کاخاص طورپر خیال ولحاظ رکھے بلکہ خوشبو/عطربھی استعمال کرےاورظاہری پاکی وصفائی کےساتھ ساتھ اپنےاخلاق و کردار اور باطنی صفائی کابھی اہتمام رکھے(9):ہر عمل اچھے وقت میں کرے اور ہر وظیفہ قبلہ کی جانب رُخ کرکےپڑھے۔([2])
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami