Share this link via
Personality Websites!
وظیفے پڑھنے کی اپنی عادَت بنائیں، اس کے ساتھ ساتھ جیسے ڈاکٹری عِلاج کے آداب ہوتے ہیں، پرہیز ہوتی ہے، ایسے ہی روحانی علاج کے بھی آداب اور شرائط ہیں، ان کا لحاظ رکھنا بھی ضروری ہے۔ چند باتیں عرض کرتا ہوں:
سیدی اعلیٰ حضرت رحمۃُ اللہ علیہ لکھتے ہیں: *جب بھی کوئی وظیفہ پڑھا جائے تو وہ کسی جائز کام کو پورا کرنے کے لیے،اللہ پاک کی بارگاہ میں عاجزی کرنے کا ذریعہ ہو۔نیز وظیفہ پڑھنے والاوظیفے کو اللہ پاک کی بارگاہ میں وسیلہ بنائے اور ثواب کی نیّت سے وظیفہ کرے۔ *ان نیّتوں کے ساتھ وظیفہ مسجد میں بھی کیا جاسکتا ہے *اگر وظیفہ صرف اسی نیّت سے کیا جائے کہ میرا کام ہو جائے تب بھی جائز تو ہے مگرثواب نہیں ملے گا اور ایسے وظیفے مسجد میں نہ کرنا بہتر ہیں *وظیفہ جائز کام کے حصول کے لیے ہو۔ اگر ناجائز کام کے لیے ہو مثلاً میاں بیوی میں لڑائی کروانے کے لیے توایسا وظیفہ حرام ہے *وظیفہ اگر کسی جائز کام کے لیے ہی ہو ،مگر کسی ناجائز طریقے سے ہو مثلاً سفلی عِلْم وغیرہ کے ذریعے تب بھی حرام ہے۔([1])
اَوراد و وَظائِف کی 7 شرائط
اَوْراد و وَظائِف کا اَثَر ہو، اِس کے لیے 7 شرائط ہیں: (1):حلال لقمہ کھانا اور حرام غذاؤں سے بچنا (2):سچ بولنا اور جھوٹ سے ہمیشہ بچتے رہنا (3):نیت کو درست اور پاکیزہ رکھنا کہ ہر نیکی اللہ پاک ہی کے لیے کرنا (4):شریعت کے احکام کی پوری پوری پابندی کرنا (5):اللہ پاک کے دِین کے سُتونوں مثلاً قرآن،کعبہ،نبی،نماز وغیرہ کی تعظیم اور بزرگانِ دِین کا ہمیشہ ادب و احترام کرنا (6):جو وظیفہ بھی پڑھیں دل کی حضوری(یعنی مکمل تَوَجُّہ)کے ساتھ پڑھنا (7):جو عمل اور وظیفہ پڑھیں اس کی تاثیر پر پورا پورایقین اور پختہ عقیدہ
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami