Share this link via
Personality Websites!
مسلم اپنے جھوٹے خُداؤں کے نام اور شرکیہ الفاظ وغیرہ لکھ کر گلے میں ڈالتے اور مختلف طریقوں سے استعمال کیا کرتے تھے۔ انہیں تَمَائِم کہا جاتا تھا۔ جبکہ تعویذ وہ ہوتا ہے جس میں قرآنی آیات، اللہ پاک کے پاکیزہ نام اور ان کے اَعْداد اور دُعائیں وغیرہ لکھی جاتی ہیں۔([1]) علامہ علی قاری رحمۃُ اللہ علیہ فرماتے ہیں: تَمَائِم باندھنا یا کسی طرح استعمال کرنا ہر گز درست نہیں ہے جبکہ تعویذات کا استعمال نہ صِرْف جائِز ہے بلکہ یہ مُسْتَحَبْ (یعنی پسندیدہ) اور بابرکت بھی ہے۔([2])
اِمام قُشَیری رحمۃُ اللہ علیہ کو خواب میں رسولِ اکرم، نُورِ مُجَسَّمْ صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَسَلَّم کی زِیارت ہوئی تو پیارے آقا، مدینے والے مصطفےٰ صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا : کیوں پریشان ہیں؟ میں نے عرض کیا : میرا بیٹا بیمار ہے، اُس کی حالت نَازک ہے۔ اِرشاد فرمایا : آیاتِ شِفا کی طرف دھیان کیوں نہیں کرتے؟ چنانچہ (بیدار ہوکر) آپ رحمۃُ اللہ علیہ نے آیاتِ شِفا 3 مرتبہ پڑھ کر اپنے بچے پر دَم کیا جس کی برکت سے اُسے شِفا مل گئی۔([3])
نعمتیں برکتیں بفضل رَبّ رحمتیں راحتیں شفائیں سب
اس سے پاتے ہیں صاحبِ ایماں واہ کیا بات پیارے قرآں کی
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہ عَلٰی مُحَمَّد
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami