Share this link via
Personality Websites!
رَضِیَ اللہ عنہ کو خط لکھا کہ مجھے دائمی دردِ سر کی شکایت ہے، اگر آپ کے پاس اس کی دَوا ہو تو بھیج دیجیے! حضرت عمر رَضِیَ اللہ عنہ نے اُس کو ایک ٹوپی بھیج دی۔ قیصرِ رُوم اُس ٹوپی (Cap) کو پہنتا تو اس کا دردِ سر ختم ہو جاتا اور جب سر سے اُتارتا تو دردِ سر پھر لوٹ آتا،اسے بڑا تعجب ہوا، آخر کار اُس نے اس ٹوپی کو اُدھیڑا تو اس میں سے ایک کاغذ ملا جس پر بِسْمِ اللہ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْم لکھاتھا۔([1])
امام شافعی رحمۃُ اللہ علیہ سے ایک شخص نے اپنی آنکھ کی بیماری کی شِکایت (Complaint) کی تو آپ نے اُسے بِسْمِ اللہ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمکے ساتھ سورۂ قٓ کی آیت نمبر:22
فَكَشَفْنَا عَنْكَ غِطَآءَكَ فَبَصَرُكَ الْیَوْمَ حَدِیْدٌ(۲۲)
اور سورۂ حٰمٓ اَلسَّجْدَۃ کی آیت :44
لِلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا هُدًى وَّ شِفَآءٌؕ-
کا تعویذ بنا کر دیا، جسے پہننے کی برکت سے اُس کی یہ بیماری دور ہو گئی۔ ([2])
پیارے اسلامی بھائیو! مَعْلُوم ہوا؛ تعویذ پہننا، ان سے فائدہ اُٹھانا بالکل جائِز ہے۔ بعض روایات ہیں جن میں تَمَائِم باندھنے سے منع کیا گیا ہے۔ بعضوں کو یہ روایات پڑھ کر غلط فہمی ہوتی ہے۔ اصل میں تَمَائِم اور چیز ہیں، تعویذ اور چیز ہے۔ زمانۂ جاہلیت میں غیر
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami