Share this link via
Personality Websites!
ہونے والا ایک زبردست واقعہ سنیے!
حضرت مالِک اَشْجعی رَضِیَ اللہ عنہ صحابئ رسول ہیں، ایک مرتبہ آپ کے بیٹے حضرت عَوْف بن مالِک رَضِیَ اللہ عنہ غیر مسلموں کے ہاں قید ہو گئے۔
ما شَآءَ اللہ! صحابۂ کرام علیہمُ الرّضوان کی تو عادَت تھی، جو مشکل ہوتی، پیارے مَحْبُوب صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم کی خِدْمت ہی میں حاضِر ہوتے تھے، چنانچہ حضرت مالِک اَشجعی رَضِیَ اللہ عنہ پیارے مَحْبُوب صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم کی خِدْمت میں حاضِر ہو گئے۔ معاملہ عرض کیا۔ آپ صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم نے فرمایا: کسی طرح اپنے بیٹے کو پیغام بھیجو لَاحَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ اِلَّا بِاللہ کثرت سے پڑھے۔
ادھر حضرت عوف بن مالِک رَضِیَ اللہ عنہ کو دشمنوں نے بیڑیوں میں جکڑا ہوا تھا، آپ تک پیغام پہنچا تو آپ نے وظیفہ پڑھنا شروع کر دیا۔ سُبْحٰنَ اللہ!اس وظیفے کی برکت سے ان کی بیڑیاں خُودبخود ٹُوٹ گئیں،وہ دشمنوں کی قید سے نکل کر ان کی ایک اُونٹنی پر سوار ہوکر مدینہ پاک پہنچ گئے۔([1])
بہر حال! پیارے اسلامی بھائیو! ہمیں روحانی عِلاج کا ذِہن بنانا چاہیے۔ یاد رکھیے! روحانی عِلاج (یعنی دَمْ کرنا،وِرْد وظیفے پڑھنا) ہمارے پیارے آقا، مکی مَدَنی مصطفےٰ صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم کی پیاری پیاری سُنّت ہے۔ ہمارے آقا صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم جو طبیبوں کے طبیب ہیں، ظاہِری اسباب کے ساتھ بھی عِلاج فرمایا کرتے تھے، اس کے ساتھ ساتھ روحانی علاج بھی فرماتے تھے۔ مسلمانوں کی اَمِّی جان حضرت عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللہ عنہا فرماتی ہیں: رسولِ اکرم، نُورِ
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami