Share this link via
Personality Websites!
آلِہٖ وَ سَلَّم نے فرمایا: جو نَوجوان کسی بُوڑھے شخص کی عزّت کرتا ہے، اللہ پاک ایسے لوگ مقرَّر فرما دیتا ہے کہ جب یہ نوجوان بڑھاپے کو پہنچے گا، وہ لوگ اس کی عزّت کریں گے۔([1])
اس حدیثِ پاک کی وضاحت میں امام غزالی رحمۃُ اللہ علیہ لکھتے ہیں: اِس میں اِشَارہ ہے کہ بُوڑھوں کی عزّت کرنے والا لمبی عمر پائے گا، بڑھاپے کو پہنچے گا اور اس کی عزّت ہو گی۔([2])
پیارے اسلامی بھائیو! بڑوں کا اَدَب و احترام بہت ہی فضیلت والی نیکی ہے۔ دکھی دلوں کے چین، سرورِ کونین صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم نے حضرت انس رَضِیَ اللہ عنہ کو نصیحت کرتے ہوئے فرمایا:اے اَنس! بڑوں کا ادب و احترام کرو اور چھوٹوں پر شفقت کرو، یوں جنّت میں تم میری رفاقت پالو گے۔([3])
مَحفُوظ سَدا رکھنا شہا! بے ادبوں سے اور مُجھ سے بھی سَرزَد نہ کبھی بے ادبی ہو([4])
پتا چلا؛ بڑوں کاادب و احترام باعثِ نِجات اور جنّت میں آخری نبی، مُحَمَّدِ عربی صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم کا قرب پانے کا ذریعہ ہے۔لہٰذا ہمیں چاہیے کہ جو علم، عمر،عہدے اور منصب میں ہم سے بڑے ہیں، ان کا ادب و احترام بجا لائیں اور ہمارے بڑوں میں ماں باپ، چچا تایا، خالو، ماموں، بڑے بہن بھائی دیگر رشتہ دار، اساتذہ، پیر و مرشد، علما و مشائخ وغیرہ سب شامل ہیں اور جوعمر اور مقام ومرتبے میں چھوٹا ہو، اس کے ساتھ شفقت و محبت کا برتاؤ کریں۔
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami