Share this link via
Personality Websites!
پُرسکون، سُکھ چین اور راحت و آرام والی پاکیزہ زِندگی عطا کی جاتی ہے۔
حضرت حَسَن بن صالِح رحمۃُ اللہ علیہ نے فرمایا: نیک عمل: (1):بدن میں قوت (2):دل میں نُور اور (3):آنکھوں میں روشنی پیدا کرتا ہے۔ جبکہ بُرا عمل: (1):بدن میں کمزوری (2):دل میں اندھیرا اَور (3):آنکھوں میں اَندھا پن لاتا ہے۔([1])
100 سال کی عمر میں بھی جسمانی قُوَّت سلامت
ایک بہت بڑے عالِم ہوئے ہیں، علّامہ اَبُو طَیَّب طَبْری رحمۃُ اللہ علیہ ، آپ نے 100 سال سے بھی زیادہ عمر پائی، اس عمر میں بھی آپ ذہنی و جسمانی لحاظ سے تندرست و توانا تھے، آپ سے کسی نے صحت کا راز پوچھا تو فرمایا: میں نے جوانی میں اپنی جسمانی صلاحیتوں کو گُنَاہ سے مَحْفُوظ رکھا (خُود کو نیک اَعْمَال میں لگائے رکھا) ، اس کی بَرَکت سے آج جب میں بوڑھا ہو گیا ہوں تو اللہ پاک نے میری جسمانی صلاحیتوں کو میرے لیے باقی رکھا۔([2])
پیارے اسلامی بھائیو! یہ ہے نیک اَعْمَال کا دُنْیوی فائدہ...!! جو گُنَاہوں سے بچ کر نیک اَعْمَال میں لگا رہے، اللہ پاک اسے صحت و سلامتی والی، پُرسکون زندگی عطا فرماتا ہے۔
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہ عَلٰی مُحَمَّد
(2):بڑوں کی عزّت
حضرت انس بن مالِک رَضِیَ اللہ عنہ سے روایت ہے، رسولِ اکرم، نورِ مُجَسَّم صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami