Share this link via
Personality Websites!
عمر کتنی ہو گی؟ یہ تو پہلے سے لکھا جا چکا ہے، پِھر اَحادِیث کی رُ و سے عمر بڑھنے کا کیا معنیٰ ہے؟ عُلَمائے کرام نے اس کے 2مطلب بتائے ہیں: (1):عمر بڑھنے کا معنیٰ یہ ہے کہ بندے کی زندگی میں بَرَکت رکھ دی جائے گی کہ وہ کم وقت میں زیادہ کام کر لے گا۔ جیسے: اعلیٰ حضرت رحمۃُ اللہ علیہ کی عمر مبارَک صِرْف 68 سال ہوئی مگر کام آپ نے اتنا کیا ہے کہ آج ٹیکنالوجی کی دور میں 100 افراد مِل کر بھی اتنا کام نہیں کر سکتے۔ یہ ہے عمر بڑھنے کا ایک معنیٰ کہ اس کے وقت میں بَرَکت رکھ دی جاتی ہے (2):دوسرا معنیٰ یہ ہے کہ بندہ جب عمر بڑھانے والا کام کرتا ہے تو تقدیرِ مُعَلَّق جو تقدیر کی ایک قسم ہے اس میں تبدیلی کر دی جاتی ہےاور اُس کی عمر بڑھا دی جاتی ہے، اللہ پاک قرآنِ کریم میں اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرماتا ہے: ([1])
یَمْحُوا اللّٰهُ مَا یَشَآءُ وَ یُثْبِتُ ۚۖ- (پارہ:13، سورۂ رعد:39)
تَرجَمۂ کَنزالْعِرفَان: اللہ جو چاہتا ہے مِٹا دیتا ہے اور برقرار رکھتا ہے۔
بہرحال! عمر بڑھنے کی کوئی بھی صُورت ہو، دونوں صُورتوں میں فائدہ ہی فائدہ ہے۔
پیارے آقا صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم نے فرمایا: نیکی عمر بڑھاتی ہے۔([2]) قرآنِ کریم میں ہے:
مَنْ عَمِلَ صَالِحًا مِّنْ ذَكَرٍ اَوْ اُنْثٰى وَ هُوَ مُؤْمِنٌ فَلَنُحْیِیَنَّهٗ حَیٰوةً طَیِّبَةًۚ- (پارہ:14،سورۂ نحل:97)
تَرجَمۂ کَنزالْعِرفَان: جو مرد یا عورت نیک عمل کرے اور وہ مسلمان ہو تو ہم ضرور اسے پاکیزہ زندگی دیں گے۔
مَعْلُوم ہوا؛نیک اَعْمَال کی بَرَکت سے بندۂ مؤمن کو دُنیا میں رِزْقِ حلال، نیک، پاکیزہ،
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami