Share this link via
Personality Websites!
ہے، ہر ایک کو اُس کی زندگی کی نہیں بلکہ زندگی میں کمائے گئے اَعْمال کی جزا دی جائے گی۔
ایک دن موت آ کر رہے گی ضَرور اِس کو تم مجرِمو! کچھ سمجھنا نہ دور
بعدِ مُردَن(موت) نہ پاؤ گے کوئی سُرور ایسے ہو جائے گا خاک سارا غُرور([1])
ہمارے آقا و مولیٰ، مکی مَدَنی مُصطفےٰ صلی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَسَلَّم کی خِدْمت میں سُوال ہوا: يَارَسُولَ اللَّهِ اَيُّ النَّاسِ خيرٌ؟ یعنی یارسولَ اللہ صلی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَسَلَّم ! بہترین بندہ کون ہے؟ فرمایا: مَن طَالَ عُمْرُهٗ وحَسُنَ عَمَلُهٗ یعنی جس کی عمر لمبی اور اَعْمال اچھے ہوں، وہ بندہ بہترین ہے۔ پِھر سوال ہوا: أَيُّ النَّاسِ شَرٌّ؟ یعنی بُرا بندہ کون ہے؟ فرمایا: مَنْ طَالَ عُمْرُهُ وَسَآءَ عَمَلُهُ یعنی جس کی زندگی لمبی اور اَعْمال بُرے ہوں، وہ بُرا بندہ ہے۔([2])
مَعْلُوم ہوا؛ لمبی زندگی بھی اچھی ہے اور لمبی زندگی کی خواہش بھی بہت اچھی ہے جبکہ اَعْمال اچھے ہوں، نیکیاں کمانے، اپنے رَبِّ کریم کو منانے کے لیے لمبی زندگی کی خواہش کی جائے۔ اگر اعمال بُرے ہیں، پِھر لمبی زندگی وبالِ جان بن جاتی ہے۔ لہٰذا ہمیں چاہیے کہ ہم اپنی زندگی کا رُخ درست رکھیں۔
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہ عَلٰی مُحَمَّد
بہت بلند رُتبہ صحابئ رسول، حضرت طلحہ بن عبید اللہ رَضِیَ اللہ عنہ فرماتے ہیں:1 مرتبہ 2
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami