Share this link via
Personality Websites!
یہ دُعائیں دینے میں حرج نہیں ہے، زیادہ عرصہ دُنیا میں زِندہ رہنے کے بھی الگ سے فضائِل ہیں مگر میں بات سوچ کی کر رہا ہوں، حضرت عمر بن عبد العزیز رحمۃُ اللہ علیہ نے تَوَجُّہ دِلائی کہ زِندگی تو جتنی ہے، سَو ہے، تقدیر میں لکھی جا چکی ہے، تم میرے لیے نیک اَعْمال کی دُعا کر دَو کہ جب تک میں زندہ رہوں، نیکیاں کرتا رہوں۔
سُبْحٰنَ اللہ! یہ سوچ ہمیں بھی اپنانی چاہیے، اپنی عادَت میں شامِل کیجیے! جب بھی کسی کو لمبی زندگی کی دُعا دینی ہو تو یُوں دیجیے! اللہ پاک آپ کو نیکیوں بھری لمبی زندگی عطا فرمائے۔
رضاؔ منزل تو جیسی ہے وہ اِک میں کیا، سبھی کو ہے
تم اس کو روتے ہو، یہ تو کہو یاں ہاتھ خالی ہے
وضاحت:اے رضا! جانے کے غم میں کیا روتے ہو ؟جانا تو طے ہے ، سبھی نے ایک دن جانا ہی ہے۔ رونا تو اِس پر چاہیے کہ نیک اعمال سے نامۂ اعمال خالی ہے۔
اللہ پاک قرآنِ کریم میں فرماتا ہے:
وَ مَا هُوَ بِمُزَحْزِحِهٖ مِنَ الْعَذَابِ اَنْ یُّعَمَّرَؕ-وَ اللّٰهُ بَصِیْرٌۢ بِمَا یَعْمَلُوْنَ۠(۹۶) (پارہ:1، سورۂ بقرۃ:96)
تَرجَمۂ کَنزالْعِرفَان:حالانکہ اتنی عمر کا دیا جانا بھی اسے عذاب سے دور نہ کر سکے گا اور اللہ ان کے تمام اعمال کو خوب دیکھ رہا ہے۔
یعنی محض اِس دُنیا میں سالہا سال تک زِندہ رہنا عذاب سے بچا نہیں سکے گا۔ موت بہر حال آنی ہی آنی ہے۔ ایسا نہیں ہو گا کہ فُلاں چونکہ 2 ہزار سال زندہ رہا، لہٰذا اُسے بخش دیا جائے، فُلاں چونکہ 50 سال زندہ رہا، اُس کی پکڑ ہو جائے۔ اللہ پاک سب اعمال کو دیکھتا
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami