Share this link via
Personality Websites!
پیارے اسلامی بھائیو! بیان کو اختتام کی طرف لاتے ہوئے سُنّت کی فضیلت اور چند آدابِ زندگی بیان کرنے کی سَعَادت حاصِل کرتا ہوں۔ تاجدارِ رسالت، شہنشاہِ نبوت صلی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا:مَنْ اَحَبَّ سُنَّتِی فَقَدْ اَحَبَّنِی وَمَنْ اَحَبَّنِی كَانَ مَعِیَ فِی الْجَنَّةِ جس نے میری سُنّت سے محبّت کی اس نے مجھ سے محبّت کی اور جس نے مجھ سے محبّت کی وہ جنّت میں میرے ساتھ ہو گا۔([1])
سینہ تیری سُنّت کا مدینہ بنے آقا! جنت میں پڑوسی مجھے تم اپنا بنانا
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہ عَلٰی مُحَمَّد
2فرامینِ آخری نبی، رسول ہاشمی صلی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَسَلَّم : (1):میری اُمَّت کی اَفْضَل عبادت تلاوتِ قرآن ہے۔([2])
اے عاشقانِ رسول! قرآنِ کریم کی تِلاوت کرنا سُنَّت ہے۔ ہمارے پیارے آقا، مکی مَدَنی مصطفےٰ صلی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَسَلَّم کثرت سے قرآنِ کریم کی تلاوت فرمایا کرتے تھے *حضرت عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللہ عنہا فرماتی ہیں: کوئی چیز آپ صلی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَسَلَّم کو تِلاوت سے نہ روکتی تھی *آپ صلی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَسَلَّم رات کی نماز میں کبھی کبھی پُوری سورۂ بقرہ اور سُورَۂ آلِ عمران کی تلاوت فرمایا کرتے تھے([3]) *روزانہ رات کو سُوْرَۂ اخلاص، سُوْرَۂ فلق اور سُوْرَۂ ناس کی تلاوت کر کے سویا کرتے تھے۔([4])
[1]...تاریخِ دمشق، جلد:9، صفحہ:343۔
[2]...شعب الایمان، باب فی تعظیم القرآن، جلد:2، صفحہ:354، حدیث:2022 ۔
[3]...شمائل محمدیہ، باب فی صوم رسول اللہ صلی اللہُ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَسَلَّم ،صفحہ:121، حدیث:320۔
[4]...شمائل محمدیہ، باب ما جاء فی نوم رسول اللہ صلی اللہُ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَسَلَّم، صفحہ:102، حدیث:264۔
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami