Share this link via
Personality Websites!
مَصْرُوف رہے، آخر 1367 ہجری بمطابق 1948 میں آپ رحمۃُ اللہ علیہ نے حج کا اِرادہ فرمایا اور مدینہ پاک کی طرف روانہ ہونے والے جہاز میں سُوار ہونے کے لیے اپنے وطن مدینۃ ُالعلماء گھوسی سے بمبئی تشریف لائے، یہاں آپ کو نمونیہ ہو گیا اور جہاز پر سُوار ہونے سے پہلے ہی ذِیْقَعْدَۃ شریف کی دوسری شب، 12 بج کر 26 منٹ پر اِس دُنیائے فانی سے رُخصت ہو گئے۔([1])
اے عاشقانِ رسول! موت تو سب کو آنی ہی آنی ہے مگر صَدْرُ الشَّرِیْعہ رحمۃُ اللہ علیہ کا مُقَدَّر دیکھیے کہ سَفَرِ حج کے دوران آپ رحمۃُ اللہ علیہ نے سَفَرِ آخرت کا آغاز فرمایا اور حدیثِ پاک کے مُطَابق جو شخص حج کے لیے گھر سے نکلے اور راستے میں وفات پا جائے تو قیامت تک اس کے لیے حج کرنے والے کا ثواب لکھا جائے گا۔([2])
مدینے کا مسافر ہند سے پہنچا مدینے میں قدم رکھنے کی بھی نوبت نہ آئی تھی سفینے میں
صَلُّوا عَلَی الْحَبیب! صَلَّی اللّٰہُ عَلٰی مُحَمَّد
دعوت اسلامی کے ایک شعبے کا تعارف:اصلاحِ اعمال
اَلحمدُ للہ!دعوتِ اسلامی امّت کی خیر خواہ اور نیکیوں کی رغبت دلانے والے دینی تنظیم ہے ، دعوتِ اسلامی مختلف شعبہ جات کے ذریعے سے امّت کی خیر خواہی کا کام انجام دے رہی ہے، انہی شعبوں میں سے ایک شعبہ اصلاحِ اعمال بھی ہے۔اس شعبے کے ذریعے اپنے اعمال کا جائز ہ لینے، مختلف نیک اعمال مثلا ً *روزہ رکھنے*فضولیات سے بچتے ہوئے خاموش رہنے * نگاہوں کو گناہوں سے بچاتے ہوئے نیچا رکھنے وغیرہ کا ذہن دیا جاتا ہے ۔
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami