Share this link via
Personality Websites!
خیر بھی سن لیتے ہیں: *مُحْسِنِ اہلسنت، خلیفہ اعلیٰ حضرت، مصنفِ بہار شریعت، حضرت علامہ مولانا مفتی محمد اَمْجَد علی اعظمی رضوی، سنّی، حنفی، قادری، برکاتی رحمۃُ اللہ علیہ 1300سن ہجری میں ہند کے ایک قصبے، مدینۃُ العلماء گھوسی شریف میں پیدا ہوئے *آپ نےابتدائی تعلیم اپنے دادا حضرت مولانا خُدا بخش رحمۃُ اللہ علیہ سے گھر پر ہی حاصِل کی *پھر اپنے قصبہ ہی میں مدرسہ ناصِرُ الْعُلوم میں پڑھتے رہے *پھر جونپور پہنچے اور مولانا محمد صدیق رحمۃُ اللہ علیہ سے کچھ اسباق پڑھے، آخر حضرت علامہ ہدایَتُ اللہ خان رحمۃُ اللہ علیہ کی خدمت میں حاضِر ہو کر دَرْسِ نظامی یعنی عالِم کورس مکمل کیا *اس کے بعد آپ رحمۃُ اللہ علیہ پیلی بھیت میں حضرت مولانا وَصِی احمد سُورتی رحمۃُ اللہ علیہ کی خدمت میں حاضِر ہوئے اور اِن سے دورۂ حدیث شریف مکمل کیا۔([1])
*صدر الشریعہ رحمۃُ اللہ علیہ کو یہ سَعَادت بھی نصیب ہوئی کہ آپ 18 سال اعلیٰ حضرت رحمۃُ اللہ علیہ کی صحبتِ بابرکت میں حاضِر رہے۔([2])
مُرْشِدِ کامِل کا مَنْظُورِ نظر امجد علی اس پہ دائِم لطف فرما چشم حق بینِ رضا
وضاحت: یعنی صَدْرُ الشریعہ، مفتی محمد امجد علی رحمۃُ اللہ علیہ اپنے پیر ومُرْشِد، اعلیٰ حضرت رحمۃُ اللہ علیہ کے مَنْظُورِ نظر ہیں، اعلیٰ حضرت رحمۃُ اللہ علیہ کی حق پہچاننے، جاننے والی نظر ہمیشہ ان پر لطف فرما رہی ہے ۔
پیارے اسلامی بھائیو! صَدْرُ الشَّرِیْعہ، مولانا امجد علی اعظمی رحمۃُ اللہ علیہ اعلیٰ حضرت رحمۃُ اللہ علیہ کی خدمتِ باسعادت میں حاضِر ہونے کے بعد تمام عمر خدمتِ دین ہی میں
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami