Share this link via
Personality Websites!
رکھنے، خُود عمل کرنے اور دوسروں تک پہنچانے کی کوشش کروں گا۔
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہ عَلٰی مُحَمَّد
حضرت سفیان ثَوْرِی رحمۃُ اللہ علیہ فرماتے ہیں: ایک مرتبہ ایک شخص نے امیر المؤمنین حضرت عمر بن عبد العزیز رحمۃُ اللہ علیہ کو دُعا دیتے ہوئے کہا:
اَبْقَاکَ اللہ
اللہ پاک آپ کو لمبی زندگی عطا فرمائے۔
حضرت عمر بن عبدُ العزیز رحمۃُ اللہ علیہ کی سوچ بڑی کمال تھی۔ ہم جیسوں کو کوئی لمبی زندگی کی دُعا دے دے تو اندر ہی اندر ایک خوشی ہوتی ہے، ذِہن میں خیال آتا ہے کہ ایسی نیک ہستی نے لمبی زندگی کی دُعا دی ہے، اب تو میں 100 سال جیوں گا (خیر! ایسے خیال آنے میں بھی کوئی بُرائی نہیں ہے،لیکن حضرت عمر بن عبدُ العزیز رحمۃُ اللہ علیہ کی سوچ دیکھیے!)آپ نے فورًا فرمایا:
ہٰذَا قَدْ فُرِغَ مِنْہٗ اُدْعُ بِالصَّلَاحِ
ترجمہ: یعنی (عمر کتنی ہو گی) یہ تَو طَے ہو چکا، میرے لیے نیک اَعْمال کی دُعا کرو!([1])
لمبی زندگی کی دُعا کیسے دیں...؟
پیارے اسلامی بھائیو! بات واقعی سمجھنے کی ہے، عموماً سبھی کو زیادہ عرصَہ زندہ رہنے کی خواہش ہوتی ہے، عموماً ہم ایک دوسرےکو دُعائیں بھی دیتے ہیں: ہزاروں سال جِیَو! جُگْ جُگْ جِیَو! بڑے بُوڑھوں سے ملاقات ہو تو وہ پیار سے سَر پَر ہاتھ پھیر کر کہتے ہیں: جیتے رَہو!
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami