Share this link via
Personality Websites!
بھلائی (یہ بھی )وہ نیکیاں ہیں جو شہروں کو آباد کرتیں اور عمریں بڑھاتی ہیں ۔([1])
اس روایت میں مزید 2 نیکیاں اِرْشاد ہوئیں: پڑوسی کے ساتھ بھلائی اور حُسْنِ اَخْلاق۔ لہٰذا ہمیں چاہیے کہ حُسْنِ اَخْلاق بھی اپنائیں اور پڑوسیوں کے ساتھ نیک سلوک بھی کیا کریں۔
حضرت عبد اللہ بن مسعود رَضِیَ اللہ عنہ فرماتے ہیں: ایک شخص نے بارگاہِ رسالت میں عرض کیا: یا رسولَ اللہ صلی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَسَلَّم ! مجھے کیسے پتا چلے گا کہ میں اچھائی کر رہا ہوں یا بُرائی کر رہا ہوں (یعنی مجھے تو اپنے سارے کام ہی اچھے مَعْلُوم ہوتے ہیں مگر واقعۃً اچھے کام اور بُرے کام کی علامت کیا ہے)؟ نبئ رحمت، شہنشاہِ نبوت صلی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا: جب تم اپنے پڑوسی کو یہ کہتے سُنو کہ تم نے بھلائی کی تو واقعی تم نے بھلائی کی اور جب تم پڑوسی کو کہتے سنو کہ تم نے برائی کی تو واقعی تم نے بُرائی کی۔([2])
کمالِ ایمان کے لیے ضروری عَمَل
اے عاشقانِ رسول! اِسْلام میں پڑوسی کو بہت اہمیت دی گئی ہے،یہاں تک کہ وہ اَعْمَال جن کے ذریعے ہمارا اِیمان کامِل ہوتا ہے،اُن میں پڑوسی کے ساتھ حُسْنِ سلوک کو بھی شامِل کیا گیا ہے یعنی ہم اس وقت تک کامِل مؤمن نہیں بن سکتے جب تک پڑوسی کے حُقُوق ادا نہ کریں۔ حضرت عبد اللہ بن مسعود رَضِیَ اللہ عنہ سے روایت ہے، اللہ پاک کے آخری نبی، رسولِ ہاشمی صلی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا:لَا یُؤْمِنُ عَبْدٌ لَا یَاْمَنُ جَارُہٗ بَوَائِقَہٗ وہ
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami