Share this link via
Personality Websites!
بھی بُرائی کرے، فرمایا: یہ صلہ رحمی نہیں ہے) بلکہ صِلَہ رحمی کرنے والا وہ ہے کہ رشتے دار اس سے تعلق توڑے، یہ پِھر بھی جوڑتا رہے۔([1])
اللہ تمہارا مدد گار ہے
ایک مرتبہ ایک صحابی بارگاہِ رسالت میں حاضِر ہوئے، عرض کیا: یارسول اللہ صلی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَسَلَّم ! میرے کچھ رشتے دار ہیں، میں ان سے رشتہ جوڑتا ہوں، وہ توڑتے ہیں، میں نیک سلوک کرتا ہوں، وہ برائی سے پیش آتے ہیں، وہ مجھ سے جہالت والا معاملہ کرتے ہیں، میں برداشت کرتا ہوں۔ پیارے آقا، مکی مدنی مصطفےٰ صلی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا: تم جب تک ایسا کرتے رہو گے، اللہ پاک کی طرف سے ایک مددگار تمہارے لیے مقرر رہے گا۔([2])
یعنی تم جب تک رشتے داروں کی بُرائیاں برداشت کرتے رہو گے، ان کے ساتھ بھلائی کرتے رہو گے، تمہاری غیب سے مدد ہوتی رہے گی۔ اللہ پاک ہمیں ماں باپ، بھائی، بہن اور دیگر رشتے داروں کے حقوق ادار کرتے رہنے کی توفیق نصیب فرمائے۔ اٰمِیْن بِجَاہِ خَاتَمِ النَّبِیّٖن صلی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَسَلَّم ۔
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہ عَلٰی مُحَمَّد
(4):حُسْنِ اخلاق اور پڑوسیوں سے بھلائی
مسلمانوں کی پیاری اَمِّی جان سیدہ عائشہ صِدِّیقہ طَیِّبَہ طاہِرہ رَضِیَ اللہ عنہا سے روایت ہے، نبیوں کے نبی، رسولِ ہاشمی صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم نے فرمایا: حُسْنِ اَخْلاق اور پڑوسی سے
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami