Share this link via
Personality Websites!
صلہ رحمی کا حکم ہے ، ان کے ساتھ رشتہ توڑ دینا، سخت گُنَاہ کا کام ہے۔حدیثِ پاک میں ہے: جو رشتے توڑتا ہے، اللہ پاک اسے توڑ ڈالتا ہے۔([1])
بہارِ شریعت میں ہے: *رشتہ داروں کو تحفہ دینا *ان کو کسی معاملے میں مدد دَرْکار ہو تو ان کی مددکرنا *انہیں سلام کرنا *ان سے ملاقات کے لیے جانا *ان کے پاس اُٹھنا، بیٹھنا، ان سے بات چیت کرنا *ان کے ساتھ لطف و مہربانی سے پیش آنا، سب صِلَہ رحمی (یعنی رشتے داروں سے نیک سلوک) کی صُورتیں ہیں۔([2])
مزید بہارِ شریعت میں لکھا ہے: اگر آدمی پردیس میں ہو تو رشتے داروں کے پاس خط بھیجا کرے (آج کل کے دَور کی بات کریں تو وقتاً فوقتًا ان سے فُون پر بات کرتا رہے)۔ ان سے رابطہ کمزور نہ کرے تاکہ لاتعلقی پیدا نہ ہو، ہو سکے تو وطن آئے اور رشتے داروں سے مل کر تعلقات تازہ کر لے۔([3])
پیارے اسلامی بھائیو! رشتے داروں سے ملنا بھی اُن کے حقوق میں سے ہے، لہٰذا اِن سے ناغہ دے کر (یعنی وقفے وقفے سے) ملتے رہنا چاہیے، مثلاً ایک دِن ملنے کو جائیں، دوسرے دِن نہ جائیں، جمعہ جمعہ ملتے رہیں، رشتے دار دُور رہتے ہوں تو مہینے میں، دو چار مہینے میں ایک
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami