Share this link via
Personality Websites!
یہ سب طرح کے جو رشتے دار ہیں، ان کے ساتھ ہماری رشتے داری ماں باپ کے واسطے سے ہوتی ہے، یہ ایک چَیْن بنتی ہے، ہم دُنیا میں ماں باپ کے واسطے سے آئے، لہٰذا ہم پر ماں باپ کے حقوق لازِم ہیں، پِھر یہ سب *دادا، دادی *چچا *پھوپھی *خالہ *ماموں *نانا، نانی *بھائی، بہن وغیرہ ماں باپ کے رشتے دار ہیں، لہٰذا ہم پر ان کے حقوق بھی لازِم ہیں۔
رسولِ ذیشان، مکی مَدَنی سُلطان صلی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا: بیشک اللہ پاک *تمہاری ماؤں کے بارے میں تمہیں وصیت فرماتا ہے *پِھر تمہاری ماؤں کے بارے میں تمہیں وصیت فرماتا ہے *پِھر تمہارے والِد کے مُتَعلِّق وصیت فرماتا ہے *پِھر جو زیادہ قریبی رشتہ دار ہے *پِھر اس سے دُور والا *پِھر اس سے دُور والا (یوں جو زیادہ قریبی رشتہ دار ہے، اس کا حق بھی زیادہ ہے)۔ ([1])
اللہ اسے توڑ ڈالتا ہے
آج کل لوگ بات بات پر تعلقات توڑ دیتے ہیں* فُلاں نے بیٹے کی شادِی پر نہیں بُلایا، لہٰذا اس کے ساتھ مرنا جینا ختم...!! * فُلاں نے گھر بُلا کر خاطرخواہ عزّت نہیں دی، لہٰذا آج سے اس کے ساتھ ہمارا کوئی تَعلُّق نہیں* فُلاں رشتے دار نے میری دُکان کی بجائے ساتھ والی دُکان سے سودا خریدا، لہٰذا اس کے ساتھ بول چال بند، بالکل چھوٹی چھوٹی باتوں پر مرنا جینا ختم کیا (یعنی رشتہ توڑا) جا رہا ہوتا ہے حالانکہ جن رشتے داروں کے ساتھ
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami