Share this link via
Personality Websites!
وفات دُعا فرمائی: یااللہ پاک!میرے بیٹے کو ایسی جگہ عبادت پر لگا کہ شیطان مُداخَلَت نہ کرے ۔ والِدِ مرحوم کی تدفین کے بعد جب میں ساحِلِ سَمُندر پر آیا تو مجھے یہ سَمُندر ی گنبدنظر آیا، میں اس کے اندر داخِل ہوگیا ۔ اتنے میں ایک فِرِشتہ آیا اوراس نے اس گنبدکوسَمُندر کی تہ میں اُتاردیا ۔ سلیمان علیہ السَّلام کے پوچھنے پر اُس نے عرض کی کہ میں حضرت ابراہیم خلیلُ اللہ ( علیہ السَّلام )کے مقدَّس دَور میں یہاں آیا ہوں ۔ حضرت سلیمان علیہ السَّلام نے جان لیا کہ اس کو 2ہزارسال اس سَمُندری گنبد میں گزر چکے ہیں مگر اب تک جوان ہے، اُس کا ایک بال بھی سفید نہیں ہوا تھا ۔ غِذا کے متعلِّق اُس نے بتایا: روزانہ ایک سبز پَرَندہ اپنی چونچ میں کوئی زَرد(یعنی پیلی ) چیز لاتا ہے،میں اُسے کھالیتا ہوں ،اس میں دنیا کی تمام نعمتوں کی لَذَّت ہوتی ہے ،اس سے میری بُھوک اورپیاس مٹ جاتی ہے ۔ اس کے علاوہ اَلحمدُ لِلّٰہ! گرمی ،سردی ، نیند ، سُستی ، غُنُود گی، گھبراہٹ اور خوف وغیرہ یہ تمام چیزیں مجھ سے دُور رہتی ہیں۔ اس کے بعد اُس نوجوان کی خواہِش پر حضر ت آصِف بن بَرخِیا رحمۃُ اللہ علیہ نے سَمُندری گنبد کو اُٹھا کر سمندر کی تہ میں پہنچا دیا۔ اِس کے بعد حضرت سلیمان علیہ السَّلام نے فرمایا: اے لوگو !اللہ پاک آپ سب پر رحم فرمائے ،دیکھا آپ نے کہ والِدَین کی دُعا کس قدر مَقْبول ہوتی ہے ! ماں با پ کی نافرمانی سے بچو۔([1])
سُبْحٰنَ اللہ! دیکھیے! اس نوجوان کو ماں باپ کی خِدْمت کا کیسا پیارا صِلَہ مِلا...!!لہٰذا ماں باپ کی خُوب خِدْمت کیجیے! اِنْ شَآءَ اللہ الْکَرِیْم! حدیثِ پاک کا وعدہ پُورا ہو گا، اللہ پاک نے چاہا تو لمبی اور نیکیوں بھری زندگی نصیب ہو گی۔
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہ عَلٰی مُحَمَّد
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami