Share this link via
Personality Websites!
معاشرتی زندگی(Social Life) میں ہمارا اپنے بڑوں سے واسطہ پڑتا ہی رہتا ہے، اس لیے ضَروری ہے کہ ہم ہر لحاظ سے ان کے ادب واحترام کا خیال رکھیں، ایک مرتبہ بارگاہِ رِسالت میں حضرت مُحَيِّصَہ رَضِیَ اللہ عنہ کی مَوجُودَگی میں حضرت عبد الرحمٰن بن سہل رَضِیَ اللہ عنہ نے عمر میں چھوٹا ہونے کے باوجود بات کرنے کی کوشش کی تو حضور نبی کریم صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم نے انہیں بڑوں کا ادب سکھاتے ہوئے فرمایا: بڑے کو بات کرنے دو۔([1])
سُبْحٰنَ اللہ! یہ اَدَب کی تعلیم ہے کہ جب بڑے بات کر رہے ہوں تو چھوٹے کو خاموش رہنا چاہیے۔ اسی طرح ہمیں چاہیے کہ ہر لحاظ سے بڑوں کا اَدَب کیا کریں۔ مثلاً *کھانا کھاتے وقت ان سے پہلے کھانا شروع نہ کیا جائے *مَجْلِس میں ان سے پہلے گفتگو نہ کی جائے *ان کے آگے نہ چلیں *ان کو نام سے نہ پُکاریں بلکہ ادب کے ساتھ مخاطَب کریں *ان کے سامنے آواز اُونچی نہ کریں *ان کی رائے کا احترام کریں *ان کے مشوروں کو سنجیدہ لیں، غرض ہر لحاظ سے بڑوں کو بڑا ہی سمجھیں، انہیں ہمیشہ مُقَدَّم (یعنی آگے آگے) ہی رکھیں۔
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہ عَلٰی مُحَمَّد
(3):صلہ رحمی اور والدین کی خِدْمت
رسولِ رحمت، شفیعِ اُمّت صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم نے فرمایا: جو پسند کرے کہ اللہ پاک اس کی عمر بڑھائے اور رِزْق میں اِضَافہ فرمائے، اسے چاہیے کہ (1):ماں باپ کے ساتھ نیک سلوک کرے اور (2):صِلَہ رحمی کیا کرے۔([2])
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami