Share this link via
Personality Websites!
مالداری سے زیادہ غربت(Poverty) کو محبوب رکھا ہے، میں نے اپنی صحت سے زیادہ بیماری کو پسند کیا ہے اور میں نےزندگی سے زیادہ موت کو محبوب رکھا ہے،لہٰذا تُو مجھ پر موت آسان کر دے تاکہ تجھ سے ملاقات کرسکوں۔ (دیوانِ سالک،ص۲۲)
اگر ہم اللہ والوں کی زندگیوں کا مطالعہ کریں تو ہمیں معلوم ہوگا کہ وہ یہ بات کبھی نہیں بُھولتے تھے کہ ہم نے یہ دنیا چھوڑ کر چلے جانا ہے، اِنہیں یہ ہمیشہ یاد رہتا کہ ہم اس دنیا میں مسافر کی طرح ہیں، اس لیے وہ فکرِ آخرت میں مبتلا رہتے اور دنیا کی طرف بالکل بھی توجہ نہ کرتے۔
زبردست امام، معمولی کپڑوں میں!
چنانچہ منقول ہے کہ حضرت امام محمد غزالی رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ ایک بار مکہ معظمہ میں تشریف فرما تھے۔ امام غزالی رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ ظاہری شان و شوکت سے بے نیازتھے،اس لئے آپ نہایت سادہ اورمعمولی قسم کا لباس پہنے ہوئے تھے ۔حضرت عبدالرحمن طُوسی رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ نے عرض کی: آپ کے پاس اس کے علاوہ اور کوئی کپڑا نہیں ہے؟آپ وقت کے اِمام اورقوم کے پیشواہیں ، ہزاروں لوگ آپ کے مُرید ہیں؟ امام غزالی رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ نے جواب دیا:ایسے شخص کالباس کیادیکھتے ہوجواس دنیامیں ایک مسافرکی طرح مقیم ہواورجواس کائنات کی رنگینوں کوفانی اوروقتی تصورکرتاہے۔جب کائنات کے آقا،مکی مدنی مصطفےٰ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّماس دنیا میں مسافر کی طرح رہے اور کچھ مال و زر اکٹھانہ کیا تو میری کیا حیثیت اورحقیقت ہے۔‘‘(احیاء العلوم، ۱/۱۹)
صَلُّو ْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ عَلٰی مُحَمَّد
اے عاشقانِ اولیا! امام غزالی رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ کی سادگی اور اپنی موت و آخرت کو یاد کرنے کا اندازاور جذبہ مرحبا، اے کاش کہ ہم بھی امام غزالی رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ کی طرح ہمیشہ موت و آخرت کو یاد
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami