Share this link via
Personality Websites!
کےلیے بھی ہم بے چین ہوئے ہیں۔بطورِ مسلمان جب ہمیں یقین ہےکہ ہم نے ایک دن مرنا ہے،اندھیری قبرمیں اُترناہے،نہ جانے کتنے سال عالمِ برزخ(برزخ کے لفظی معنیٰ آڑ اورپردہ کے ہیں اورمرنے کے بعدسے لے کرقِیامت میں اُٹھنے تک کا وقفہ"برزخ"کہلاتاہے)میں رہنا ہے،پھرقِیامت نے قائم ہونا ہے،پھرمیدانِ محشراورحساب کتاب کا معاملہ دَرپیش ہوناہے، تو ہمیں ان تمام مراحل کی تیاری کرنی چاہئے، ایک مسلمان کی آخرت کی تیاری کا انداز کیسا ہونا چاہیے اور ایک بندہ کس طرح ہمیشہ اپنی آخرت کو یاد رکھ سکتا ہے؟آئیے اس کے دو طریقے سُنتے ہیں۔
پىارے اسلامى بھائىو!آخرت کی تیاری کرنے کے لیے موت کی یاد بہت ضروری ہے، کیونکہ موت آخرت کی پہلی سیڑھی ہےاورموت آخرت کا اوَّلِیْن مرحلہ ہے۔ موت کو کثرت سے یاد کرنا گویا آخرت کے تمام مراحل کو یاد کرنا ہےکہ جب بندہ موت کو یاد کرے گا تو ربّ کو راضی کرنے والے کاموں کی طرف بڑھے گا، وہ جاننے کی کوشش کرے گا کہ کس کام میں میرے ربّ کی رِضا ہے اور کونسا کام اُسے ناراض کرنے والا ہے، پھر وہ ربّ کے احکام کے مطابق اُس کی عبادت میں مشغول ہو جائے گا۔اللہ والے پوری زندگی فکرِ آخرت میں گزار دیتے تھے،اس لیے کہ وہ کثرت سے موت کو یادکرتے تھے اور انہیں موت زندگی سے زیادہ عزیز ہوتی تھی۔
مکتبۃ المدینہ کی کتاب ”احیاء العلوم مترجم“ جلد 5 صفحہ 476 پر ہے کہ جب حضرت حذیفہ رَضِیَ اللہُ عَنْہ کی وفات کا وقت قریب آیا توا ٓپ نے فرمایا: اے اللہ پاک! تجھے معلوم ہے کہ میں نے اپنی
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami