Share this link via
Personality Websites!
کرآخرت کے نفع و نقصان کا سوچنے والے بن جائیں، اے کاش کہ ہم بھی اپنے بزرگانِ دِین اور خصوصاً صحابَۂ کرام کے نقشِ قدم پر چلنے والے بن جائیں کہ وہ علم و عمل کے پیکر، فرائض و واجبات، سُنَن و مُسْتحبات کے عادی، قرآنِ کریم کی تِلاوت کرنے والے، روزوں کے شوقین،ربّ کی رِضا کے کاموں میں مشغول ہونے کے ساتھ ساتھ جس کو گنجائش ہوتی وہ کثرت سے صدقہ کرنے والے ہوتے اور یوں وہ اللہ پاک کے احکامات پر عمل کرتے ہوئے آخرت کی تیاری میں مصروف رہتے۔
ابھی ہم نے حضرت زبیر بن عوام رَضِیَ اللہُ عَنْہ کا کچھ تذکرہ سُنا،آئیے! مختصراً اُن کی سیرت کے کچھ احوال سنتے ہیں:
10 ایسےجَلِیْلُ الْقَدْر اور خُوش نصیب صحابَۂ کرام رِضْوَانُ اللّٰہِ عَلَیْہِمْ اَجْمَعِیْن ہیں، جنہیں اللہ پاک کی عطا سے غیب کی خبریں دینے والے آقا،مکی مدنی مصطفےٰصَلَّی اللہُ عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے مِنبر شریف پر کھڑے ہو کر ایک ساتھ نام لے لے کر جنّتی ہونے کی خُوشخبری سُنائی۔اِنہی دس(10) خُوش نصیبوں میں سے ایک حضرت زُبَیْر بن عوّامرَضِیَ اللہُ عَنْہ بھی ہیں۔حضرت زُبَیْر بن عوّام حُضُورِ اَکْرم ،نورِ مجسّمصَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی پُھوپھی حضرت صَفِیَّه رَضِیَ اللہُ عَنْہاکے فرزند ہیں۔(کراماتِ صحابہ، ص۱۲۰)
آپ کانام”زُبَیْر“والد کا نام”عوّام“ ہے جبکہ اسلام قَبول کرنے والوں میں حضرت زبیر بن عوّامرَضِیَ اللہُ عَنْہ کا چوتھا یا پانچواں نمبر ہے۔ (اسدالغابہ، ۲/۲۹۵)
غَزْوَۂ خَنْدَق کے موقَع پر بَنِیْ قُرَیْظَه کی سرگرمیوں کی خبر حضرت زبیر بن عوّامرَضِیَ اللہُ عَنْہ ہی لے کر آۓ۔ اس کارنامے (Achievement)سے خوش ہو کررحمتوں والے آقا،دوجہاں کے داتا صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے اِرْشادفرمایا: ہر نبی کا ایک حَوَارِی (یعنی جاں نثاردوست)ہوتا ہے اور میرے
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami