Share this link via
Personality Websites!
اللہ والے دنیا کی بجائے ہمیشہ آخرت کی طرف نظر رکھتے ہیں، دنیا کی شے کی قربانی دے کر بدلے میںآخرت کا فائدہ اُٹھانا،ان کا طریقہ ہوتا ہے، آئیے اس طرح کا ایک واقعہ سُنتے ہیں:
منقول ہے کہ صحابیِ رسول، حضرت زُبَیر بِن عَوَّام رَضِیَ اللہُ عَنْہ انتہائی کامیاب تاجر تھے، عموماً تاجر کی سوچ ہوتی ہے کہ تجارت میں فائدہ ہی ہو نقصان نہ ہو، ایک بار حضرت زُبَیر بِن عَوَّام رَضِیَ اللہُ عَنْہ نے اپناایک گھر6 لاکھ میں فروخت کیا،تو آپ سے عرض کی گئی:اے ابو عبد اللہ!(سستا بیچ دینے کے سبب )آپ کو تو نقصان ہو گیا۔ تو حضرت زبیر بن عوّام رَضِیَ اللہُ عَنْہ نے ارشاد فرمایا: ہرگز نہیں! خدا کی قسم! تم جان لوگے کہ میں نے نقصان نہیں اُٹھایا کیونکہ میں نے یہ مال راہِ خدا میں دے دیا ہے۔ (یعنی صدقہ کردیا ہےاور جو خوش نصیب مسلمان راہِ خدا میں اپنا مال صدقہ کردیتا ہے تو وہ ہرگز نقصان نہیں اُٹھاتا بلکہ وہ تواس کے بدلے میں ملنے والے عظیمُ الشّان ثواب کا حق دار بھی قرار پاتا ہے اور اس کی بَرَکت سے اس کے مال میں بھی خوب اضافہ ہوتا ہے)(عمدۃ القاری کتاب الخمس،باب برکۃ الغازی،ج۱۰، ص ۴۶۴ملخصاً)یہ بھی منقول ہے کہ حضرت زُبَیر بِن عَوَّام رَضِیَ اللہُ عَنْہ کے ایک ہزار غلام تھے جو آپ کوزمین کی پیداوار اور فدیہ وغیرہ دیا کرتے تھے، لیکن اس میں سے ایک درہم بھی آپ کے گھر میں داخل نہ ہوتا، بلکہ آپ تمام کاتمام مال صدقہ کردیا کرتے تھے۔(عمدۃ القاری کتاب الخمس،باب برکۃ الغازی،ج۱۰، ص ۴۶۴)
صَلُّو ْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ عَلٰی مُحَمَّد
مالِ دنیا کے بدلے آخرت کا نفع کمائیے
اے عاشقانِ صحابہ واہل بیت! صحابیِ رسول حضرت زبیر بن عوّام رَضِیَ اللہُ عَنْہ کا دنیا کے مال کے بدلے آخرت کمانے کا جذبہ مرحبا۔ اے کاش کہ ہم بھی دنیا کے نفع و نقصان کو ذہن سے نکال
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami