Share this link via
Personality Websites!
اچھوں کی صحبت انسان تو انسان اگر کسی جانور کو بھی نصیب ہوجائے تو پھر وہ عام جانور نہیں رہتا بلکہ اس کی صحبت ونسبت کی برکت سے وہ دُوسرے جانوروں سے ممتازاورنمایاں ہوجاتا ہے، جیسے
اَصْحابِ کہف رَضِیَ اللہُ عَنْہم کے کُتّے ہی کو لے لیجئے کہ جو پہلے ایک عام سا کُتّا تھا، مگر اُسے اَصحابِ کہف رَضِیَ اللہُ عَنْہم سے محبت و اُلفت ہوگئی تھی، لہٰذا وہ ان اللہ والوں کی مَحَبَّت میں اُن کا رفیق، شریکِ سفراور محافظ بن گیا،اولیائے کرام رَحْمَۃُ اللّٰہ عَلَیْہمْ اَجْمَعِیْن کی صحبت کی برکتیں تو کیا نصیب ہوئیں،اس کی تو قسمت ہی چمک اُٹھی اور اس کا مقام ومرتبہ اتنا بلند ہوگیا کہ خدائے پاک نے اپنے پاکیزہ کلام قرآنِ کریم میں اپنے مقبول بندوں یعنی اصحابِ کہفرَضِیَ اللہُ عَنْہم کے ساتھ ساتھ اس کا بھی ذِکر فرمایا، چُنانچہ پارہ 15سُوْرَۃُ الْکَہفکی آیت نمبر18 میں ارشادِ خداوندی ہے:
وَ كَلْبُهُمْ بَاسِطٌ ذِرَاعَیْهِ بِالْوَصِیْدِؕ- (پ۱۵،الکھف:۱۸)
ترجَمۂ کنز العرفان:اور اُن کا کُتّا غار کی چوکھٹ پر اپنی کلائیاں پھیلائے ہوئے ہے ۔
حضرت اِمام ابوعبدُاللہ محمد بن اَحمدقُرطبی رَحْمَۃُ اللّٰہ عَلَیْہ فرماتے ہیں:جب نیک بندوں اور اولیائے کرام رَحْمَۃُ اللّٰہ ِعَلَیْہِمْ اَجْمَعِیْن کی صحبت میں رہنے کی برکت سے ایک کُتّا اتنا بلندمقام پا گیا کہ اللہ پاک نے ا س کا ذکرِ خیر قرآنِ پاک میں فرمایا تو اس مسلمان کے بارے میں تمہارا کیا خیال ہے جو اولیائے کرام اور نیک بندوں سے مَحَبَّت کرنے والا اور ان کی صحبت سے فیضیاب ہونے والا ہے بلکہ اس آیت میں ان مسلمانوں کے لئے تسلّی(Satisfaction)ہے جو کسی بلند مقام پر فائز نہیں۔([1])یعنی ان کیلئے تسلّی ہے کہ وہ اپنی اس محبت و عقیدت کی وجہ سے اللہ پاک کی بارگاہ میں کامیاب ہوں گے۔([2])
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami