Share this link via
Personality Websites!
بندے اپنی آخرت کو بہتر بنانے کا کوئی بھی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتے، ہر وہ کام جس سے ان کی آخرت سنور سکتی ہو ،یہ نیک لوگ اسے فوراً کر گزرتے ہیں ۔یہی وجہ ہے کہ ان کی صحبت میں رہنے والا بھی اس فانی دنیا کی رنگینیوں کو بھُلا کر آخرت کی طرف مائل ہونے لگتا ہے۔ یقیناً جو خُوش نصیب لوگ خوفِ خدا وعشقِ مُصْطَفٰے کی لازوال دولت سے مالا مال ہوں، جو خُوش نصیب لوگ محبتِ صحابہ و اہلبیت کی دولت سے سرشار ہوں،جو خُوش نصیب لوگ سرسے لے کر پاؤں تک سُنّتوں کی چلتی پھرتی تصویر ہوں، جو خوش نصیب لوگ اطاعتِ الٰہی اور اتباعِ رسول کا مقدس جذبہ لیے ہوئے ہوں، جن کی صحبت کی برکت سے عمل کا جذبہ بڑھتا ہو،جن کی صحبت کی برکت سے گناہوں سے نفرت اور فکرِ آخرت نصیب ہوتی ہوتو ایسوں کا فیضان پانے والا بھلا کس طرح برکتوں سے محروم رہ سکتا ہے؟
حضرت مُصْلحُ الدِّین سعدی شیرازی رَحْمَۃُ اللّٰہ عَلَیْہ نے اچھی صحبت کی اہمیت کو نہایت خوبصورت انداز میں بیان فرمایا ہے چنانچہ آپ گلستانِ سعدی میں فرماتے ہیں، جس کا ترجمہ کچھ یوں ہے: ایک روز حَمَّام میں خوشبو والی مٹی مجھے ایک دوست کے ہاتھوں سے ملی ،میں نے اُس مٹی سے کہا کہ تو مُشک ہے یا عنبر! تیری دلکش خوشبو نے مجھے مَسْت و بے خود کردیا ہے(یہ سُن کر مٹی نے کہا)میں تو حقیر(یعنی ادنیٰ سی)مٹی تھی، لیکن ایک مُدّت تک میں پھولوں کی صحبت میں رہی، اس لئے ہم نشین کے جمال نے مجھ میں اثر کیا(کہ میں خوشبودار ہوگئی) ورنہ میں تو وہی خاک ومٹی ہوں، جو پہلے تھی۔(گلستان سَعدی ص۴)
پیارے اسلامی بھائیو!جس قدر ممکن ہو نیک لوگوں کی صحبت سے وابستہ رہنا چاہئے کہ
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami