Share this link via
Personality Websites!
*”امام غزالی کی کتاب احیاء العلوم“اَخلاقیات کے مَوضُوع پر بے مثال تحریر ہے۔ *”احیاء العلوم“پڑھ کر آخرت کی تیاری کا ذہن بنتا ہے،*”احیاء العلوم“آخرت کی تیاری پر اُبھارنے والی کتاب ہے، *”احیاءُ العلوم“ نفس کے چُنگل سے چھٹکارا دِلانے والی عظیمُ الشّان کتاب ہے، *”احیاء العلوم“بار بار پڑھنے والی کتاب ہے۔ *”احیاء العلوم“میں ظاہری عُلُوم کے ساتھ ساتھ باطِنی عُلُوم کابھی بیان کیا گیا ہے۔ *”اِحیاءُ العلوم“دُنیا کے ساتھ ساتھ آخرت کو بھی بہتر بنانے کا ذریعہ ہے۔ *”احیاء العلوم“شیطان کی شرارتوں کو پہچاننے کا مؤثر ذریعہ ہے، *”احیاء العلوم“ کا مُطالَعہ اور اس میں بیان ہونےو الی باتوں پرعمل دلوں کی صفائی کا باعث بنتا ہے۔ *”احیاء العلوم“انسان کو ’’ کامل انسان ‘‘ بنانے والی کتاب ہے۔امىرِاہلسنَّت،بانىِ دعوتِ اسلامى حضرت علامہ مولانا ابُوبلال محمد الىاس عطار قادرى رضوى دَامَتْ بَـرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ اس کتاب کی اَہمیَّت بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں: باطن کى اِصلاح مىں حُجَّة ُالاِسْلام حضرت امام محمد بن محمد بن محمدغزالى رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ کا مجھ پر بڑا اِحسان ہے۔ امام غزالى رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ کى کتب مِنْہاجُ الْعابِدِىْن اوراِحْیاءُ الْعُلُوموغىرہ پڑھتے ہوئے بارہا اىسا محسوس ہوتا ہے، گوىا مجھے ہى کان پکڑ کر سمجھا رہے ہىں کہ ”بڑا نىک بنا پھرتا ہے، ذرا اپنے آپ کو تو دىکھ ! تجھ مىں توىہ بھى خرابى ہے اور تىرے اندر تو وہ بھى بُرائى ہے، نىز جب بھى پڑھوں اىسا لگتاہے کہ رُوح کو نئى نئى غِذائىں مل رہى ہىں، ان کى کُتُب اىک آدھ بار پڑھ کر رکھ دىنے والى نہىں،زِنْدگى کے آخرى سانس تک پڑھے جانے کے لائق ہىں۔“
یہ بھی یاد رہے کہ ہلاکت میں ڈالنے والے اعمال کی ضروری معلومات اور ان سے بچنے کےطریقے جاننا فرض ہے،اسی طرح نجات دِلانے والے اعمال کی ضروری معلومات اور انہیں حاصل کرنے کےطریقے جاننا بھی فرض ہے اور احیاء العلوم اس علم کو حاصل کرنے کا بہترین ذریعہ ہے۔
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami