Share this link via
Personality Websites!
رکھنے والے بن جائیں ۔ آئیے! اپنے وقت کے مجدد اور امام حضرت امام غزالی رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ کااور بھی ذکرِ خیر سنتے ہیں:
حضرت امام غزالی رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ بہت بڑے عالم اور اللہ پاک کے ولی تھے، *حضرت امام غزالی رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ کا عُرس ماہِ جُمَادَی الاُخریٰ کی 14 تاریخ کو ہے۔*حضرت امام غزالی رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ کی کُنیت ابُو حامد،لَقَب حُجَّۃُ الْاِسْلَام (اسلام کی دلیل)اور نامِ نامی،اسمِ گرامی محمد بن محمد بن محمد بن احمد غزالی شافعی رَحِمَہُمُ اللّٰہ ہے۔ حضرت امام غزالی رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ 450ھ میں خُراسان کے ضلع طُوْس کے علاقے طَابِران میں پیدا ہوئے۔(اتحاف السادۃ المتقین ،مقدمۃ الکتاب ،۱/۹) *حضرت امام غزالی رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ کا شُمار ان مُقدَّس ہستیوں میں ہوتا ہے،جنہوں نے اپنی ساری زِنْدگی حُصُولِ علم اور تبلیغِ دین کیلئے وَقْف کر دی۔ *حضرت امام غزالی رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ نے اِحْیائے دِین کےلیے ایسے ایسے کارنامے سر اَنْجام دئیے کہ اپنے وَقْت کے مُجَدِّد بن کر نمایاں ہوئے۔*حضرت سَیِّدُناامام غزالی رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ ابتدا میں بڑی شان و شوکت سے زندگی بسر فرماتے تھے مگر بعد میں زاہدانہ انداز کو اختیار فرمایا ۔حضرت ابُومنصورسعیدبن محمد رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ بیان فرماتے ہیں :’’جب پہلی بارحضرت امام غزالی رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ عالمانہ شان وشوکت کے ساتھ بغداد میں داخل ہوئے تو ہم نے ان کے لِباس وسواری کی قیمت لگائی تو وہپانچ سو(500) دِینار(یعنی 500 سونے کے سِکّے) بنی، پھر جب آپ رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ نے زُہد وتَقْویٰ اِخْتیار کیا اور بغداد چھوڑدیا، مختلف مَقامات کا سفرکرتے رہے اوردوبارہ جب بغداد میں داخل ہوئے تو ہم نے ان کے لباس کی قیمت لگائی تووہ پندرہ (15)قیراط (یعنی چند معمولی سِکّے)بنی۔‘‘(المنتظم فی تاریخ الملوک والامم، ۹/۱۲۶، الجزء: ۱۷)
امام غزالی رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ اور احیاءُ العلوم
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami