Share this link via
Personality Websites!
(2):فرشتوں کی نیک اجتماعات سے محبّت
حدیثِ پاک میں بیان ہونے والے واقعہ سے دُوسری بات یہ سیکھنے کو ملی کہ نُورانی مخلوق یعنی اللہ پاک کے فرشتے بھی نیک اجتماعات سے بہت محبّت کرتے ہیں۔ عَلّامہ نَجْمُ الدِّین غَزِّی رحمۃُ اللہ علیہ دَسْوِیں صدی ہجری کے بزرگ ہیں، آپ نے فرشتوں کے اَفعال اور عادات پر بہت تفصیلی کلام کیا ہے، آپ لکھتے ہیں: مَحَبَّةُ مَجَالِسِ الذِّكْرِ، وَاِقْبَالُهُمْ عَلَيْهَا، وَحَنِيْنُهُمْ اِلَيْهَا، وَحَفُّهُمْ بِهَا، وَمَسَاعِدَتُهُمْ لِاَهْلِهَا فِيْ الذِّكْرِ، وَتَكْثِيْرُ سَوَادِهِمْ یعنی *محافِلِ ذِکْر (نیک اجتماعات) کے ساتھ محبّت رکھنا *ان اجتماعات میں شرکت کرنا *ان اجتماعات کا انتہائی شوق رکھنا *ان کے گِرد جمع ہونا *ان اِجْتماعات میں شرکت کرنے والوں کی مدد کرنا اور *ان کا مجمع بڑھانا فرشتوں کی عادات کا حِصَّہ ہے۔([1])
سُبْحٰنَ اللہ! صِرْف نیک اجتماعات میں شِرکت کی بات نہیں ہے، فرشتے (1):نیک اجتماعات سے محبّت بھی رکھتے ہیں (2):اِن میں شرکت بھی کرتے ہیں (3):ایک اِجْتماع ختم ہو جائے تو دوبارہ وہ اِجْتماع کب ہو گا، کب وہ لمحے آئیں گے جب دوبارہ اِجْتماع میں شرکت نصیب ہو گی، فرشتے اس کا انتہائی شوق بھی رکھتے ہیں (4):جو لوگ ان اجتماعات میں شرکت کرتے ہیں، فرشتے ان کی مدد کرتے ہیں (5):اور ان کا مجمع بڑھانے کے لیے اِجْتماعات میں شامِل رہتے ہیں، ان کے ساتھ بیٹھتے ہیں، ان کے ساتھ مِل کر تِلاوت و نعت اور بیانات سُنتے ہیں، ان کے ساتھ مِل کر ذِکْر اَذْکار کرتے اور ان کی دُعاؤں پر آمین کہتے ہیں۔
پیارے اسلامی بھائیو! نیک اجتماعات کی ان شانوں کے قربان جائیے...!! بھلا
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami