Share this link via
Personality Websites!
بِالْغَدٰوةِ وَ الْعَشِیِّ
کے ساتھ مانوس رکھ جو صبح و شام اپنے رب کو پکارتے ہیں۔
آپ صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم نے جس موقع پر یہ آیتِ کریمہ تِلاوت فرمائی، اس سے پتا چلتا ہے کہ دِینی اجتماع سجانے والے بھی اس آیت کے تحت شامِل ہیں اور فرمایا جا رہا ہے کہ جو مِل جُل کر بیٹھتے اور اللہ پاک کے ذِکْر میں مَصْرُوف ہوتے ہیں، خُود کو ان کے ساتھ مانُوس کر لو...!!
مانُوس ہونے کا مطلب ہوتا ہے: دِل لگ جانا، عادَت پڑ جانا، جیسے ہمارے ہاں ماحَوْل بن گیا ہے نا، اللہ کرے یہ ماحول بدل جائے، لوگ موبائِل کے ساتھ مانُوس ہو گئے ہیں، ایک بار پکڑ لیں تو چھوڑنے کو دِل ہی نہیں کرتا، گھنٹوں گزر جاتے ہیں، احساس ہی نہیں ہوتا۔ اسے مانُوس ہونا کہتے ہیں۔
پتا چلا؛ جو نیک اجتماعات سجانے والے ہیں، ذِکْر اَذْکار کی محفلیں سجانے والے ہیں، اس نیک کام میں گُنَاہوں بھری باتوں کو شامِل نہیں کرتے، خالص اللہ پاک کی عبادت اور ذِکْر اَذْکار کرتے ہیں، عِلْمِ دِین سیکھتے سکھاتے ہیں، اُن کے ساتھ دِل کو ایسے مانُوس کر لیا جائے کہ اُن کی عادَت ہی پڑ جائے، دِل اُن سے کبھی جُدا ہی نہ ہو...!! بَس اجتماعات میں جائیں، تَو ہی سکون ملے، اس کے سِوا دِل کو چین ہی نہ آیا کرے۔
دَرْد اپنا دے اس قدر یاربّ! نہ پڑے چین عمر بھر یاربّ!
ایسا مجھ کو گُما دے اُلفت میں نہ رہے اپنی کچھ خبر یاربّ!([1])
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami