Share this link via
Personality Websites!
والے اللہ پاک کا ذِکْر کرتے ہیں تو فرشتے بھی ان کے ساتھ ذِکْر کرتے ہیں اور قربان جائیے! جب اجتماع میں آنے والے دُعا کے لیے ہاتھ اُٹھاتے ہیں، رَو رَو کر اپنے گُنَاہوں کی مُعَافِی مانگتے ہیں، اللہ پاک کی رحمت سے اُمِّید لگائے، بخشش کے طلبگار بنتے ہیں تو فرشتے ان کی دُعا پر آمین کہتے ہیں۔
آپ اندازہ لگائیے! جس پر فرشتے آمین کہہ رہے ہوں، اس دُعا کی کیا شان ہو گی۔ اسی حدیثِ پاک میں بتا دیا گیا، جب ایسی دُعا کی جائے، اجتماع میں بخشش مانگی جائے، فرشتے آمین کہتے ہیں اور اللہ پاک فرماتا ہے: اے فرشتو! گواہ ہو جاؤ! میں نے ان کو بخش دیا ہے۔
آج کے اس سنّتوں کے اجتماعِ پاک میں
جو بھی آیا بخش دے اس کو مرے پروردگار
پیارے اسلامی بھائیو! سیرتِ مصطفےٰ و سیرتِ صحابہ کا یہ جو واقعہ ہم نے سُنا، اس سے ہمیں بہت کچھ سیکھنے کو ملتا ہے، 3 باتیں عرض کرتا ہوں:
(1):اجتماع سجانے والوں سے محبّت کیجیے!
اس واقعہ سے ہمیں پتا چلتا ہے کہ جو لوگ دِینی اجتماعات سجاتے ہیں، وقتاً فوقتاً اللہ پاک کے ذِکْر کے لیے، عِلْمِ دِین سیکھنے سکھانے کے لیے، نیکیاں کرنے کے لیے مِل بیٹھتے ہیں، ایسے لوگوں کے ساتھ دِل لگانا، ان سے محبّت کرنا، ان کے ساتھ خُود کو مانُوس رکھنا بھی کارِ ثواب ہے۔ دیکھیے! پیارے آقا صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم نے دِینی اجتماع سجانے والوں کے مُتَعلِّق یہ آیتِ کریمہ تِلاوت کی:
وَ اصْبِرْ نَفْسَكَ مَعَ الَّذِیْنَ یَدْعُوْنَ رَبَّهُمْ (پارہ:15، سورۂ کہف:28)
تَرجَمۂ کَنزالْعِرفَان: اور اپنی جان کو ان لوگوں
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami