Share this link via
Personality Websites!
اِس کے بعد آپ صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم نے فرمایا: اَہْلِ زمین میں سے جب بھی کوئی گروہ ذِکْرُ اللہ کی محفل سجاتا (یعنی دِینی اجتماع کا اہتمام کرتا) ہے، اُن کے ساتھ اتنی ہی تعداد میں فرشتے بھی بیٹھ جاتے ہیں،اگر تمہارا گِروہ سُبْحٰنَ اللہ کہتا ہے تو فرشتے بھی سُبْحٰنَ اللہ کہتے ہیں، اگر تم اَلْحَمْدُ لِلہِ کہتے ہو تو فِرشتے بھی اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ کہتے ہیں اور اگر تم اللہ اَکْبَرُ کہتے ہو تو فرشتے بھی اللہ اَکْبَرُ کہتے ہیں۔ اگر وہ بخشش کی دُعائیں مانگتے ہیں تو فرشتے اس پر آمین کہتے ہیں، پھر اِجْتماع کے اِخْتتام کے بعد وہ فرشتے اپنے رَبّ کی بارگاہ میں حاضِر ہو جاتے ہیں حالانکہ اللہ پاک ان سے زیادہ جاننے والا ہے۔ پِھر بھی (اجتماع سجانے والوں کی شان کے اِظْہار کے لیے) اللہ پاک فرماتا ہے: اے فرشتو! کہاں سے آئے ہو؟ فرشتے عرض کرتے ہیں: اے مالِکِ کریم! زمین پر تیرے بندے تیری عبادت کر رہے تھے، ہم نے بھی ان کے ساتھ مِل کر عِبَادت کی، وہ تیرا ذِکْر کر رہے تھے، ہم نے بھی اُن کے ساتھ مِل کر تیرا ذِکْر کیا، اُنہوں نے تیری حمد کی، تیری پاکی بَولی، تیری کبرائی بیان کی،اے مالِک! تجھ سے بخشش کی دُعائیں مانگ رہے تھے۔ اس پر اللہ پاک فرماتا ہے: اے فرشتو! گواہ ہو جاؤ...!! میں نے انہیں بخش دیا۔ فرشتے عرض کرتے ہیں: مولیٰ...!! ان میں فُلاں بندہ بڑا بدکار ہے۔ اللہ پاک فرماتا ہے: ہُمُ الْقَوْمُ لَا یَشْقٰی بِہِمْ جَلِیْسُہُمْ وہ (یعنی ذِکْرُ اللہ کے لیے دِینی اجتماع سجانے والے) ایسی قوم ہے کہ جن کے پاس بیٹھنے والا بھی بدبخت نہیں رہتا۔([1])
سُبْحٰنَ اللہ!پیارے اسلامی بھائیو!اندازہ کیجیے!دِینی اجتماعات کیسے بابَرَکَت ہیں...!! جو اِن دِینی اجتماعات میں بیٹھتے ہیں، یہ اکیلے نہیں ہوتے، فرشتے بھی ان کے ساتھ بیٹھتے ہیں، یہ اللہ پاک کی حمد کرتے ہیں تو فرشتے بھی ساتھ مِل کر حمد کرتے ہیں، اجتماع میں آنے
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami